30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو اس زمانہ کا کیا پوچھنا۔مگر خیال رہے کہ اب رفتار زمانہ کو دیکھتے ہوئے عورتوں کو باپردہ ان مجالس میں آنے کی اجازت دو کیونکہ جب عورتیں کالجوں،بازاروں،سینماؤں سےنہیں رک سکتیں تو یہاں سے روک دینا ان کے لیے تباہی کے اسباب جمع کردینا ہیں۔اس حدیث سےمعلوم ہورہا ہے کہ عیدگاہ اور اچھی مجلسوں میں سمجھ داربچوں کوبھی لے جاناچاہیئے۔(ازمرقاۃ)
۳؎ یعنی اگر نماز نہ پڑھیں گی تو مسلمانوں کی دعاؤں سے تو فائدہ ا ٹھائیں گی،اپنےمتعلق حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے وعظ سے شرعی احکام معلوم کریں گی،عید کی رونق بڑھائیں گی کیونکہ اس وقت مسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی۔اس سے معلوم ہوا کہ ذکر کی مجلسوں،صالحین کی صحبتوں میں حاضری دینا اور ان سے برکت حاصل کرنا سنت سے ثابت ہے۔
۴؎ یعنی نمازی عورتوں کی صفوں سے کچھ ہٹ کربیٹھیں کیونکہ اس زمانہ میں باقاعدہ عیدگاہ نہ بنی تھیں اور اب بھی عیدگاہوں پرمسجدوں کے سارے احکام جاری نہیں وہ جنگل کے حکم میں ہیں جیساکہ کتب فقہ میں مذکور ہے۔
۵؎ یعنی اگر اس کےپاس دوچادریں ہوں تو ایک چادرتھوڑی دیر کے لیے عاریۃً اس غریب سہیلی کو دے دے اور اگر ایک بڑی چادر ہوتو کچھ حصہ سے اسے ڈھانپ لے۔بہرحال اسے عیدگاہ پہنچانے کی کوشش کرے۔
|
1432 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى تُدَفِّفَانِ وَتَضْرِبَانِ وَفِي رِوَايَةٍ: تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتِ الْأَنْصَارُ يَوْمَ بُعَاثَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَغَشٍّ بِثَوْبِهِ فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ فَكَشَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَجْهِهِ فَقَالَ: " دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ وَفِي رِوَايَةٍ: يَا أَبَا بَكْرٍ إِن لكل قوم عيدا وَهَذَا عيدنا " |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر ان کے پاس منٰی کے زمانہ میں آئے جب کہ ان کے پاس دوبچیاں ۱؎ دف بجارہی تھیں اورایک روایت میں ہے کہ وہ گیت گارہی تھیں جو انصار نے جنگ بعاث کے بنائے تھے۲؎ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کپڑا اوڑھے لیٹے تھے حضرت صدیق نے ان بچیوں کو جھڑکا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ انورکھولا فرمایا اے ابوبکر انہیں چھوڑدو کیونکہ یہ دن عید کے دن ہیں۳؎ اور ایک روایت میں ہے کہ اے ابوبکر ہرقوم کی عیدہوتی ہے یہ ہماری عیدہے۴؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ دونوں بچیاں انصارکی تھیں ایک حضرت حسان ابن ثابت کی بیٹی تھی اور دوسری کسی اور کی،مگر دونوں نہ تو بالغہ تھیں اور نہ قریب بلوغ(مراہقہ)بلکہ بہت چھوٹی بچیاں تھیں،حضر ت شیخ نے فرمایا کہ تَضْرِبَانِ کے معنی ناچ رہی تھیں، ضِرَابْ سےمشتق ہےجیسے اب بھی بچیاں خوشی سے گایاناچاکرتی ہیں،بعض نے کہا تالیاں بجارہی تھیں۔
۲؎ یعنی گندے یا عشقیہ گیت نہ تھے بلکہ شجاعت اوربہادری کے گیت تھے۔بعاث مدینہ منورہ کے قریب بنی قریظہ کے علاقہ میں ایک جگہ تھی جہاں انصار کے دوقبیلوں اوس اورخزرج میں بڑی خون ریزجنگ ہوئی تھی جس کی عداوت ایک سو بیس سال تک رہی تھی،پھرحضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں قبیلوں کو ملا کر شیروشکرکردیا،اسی کا ذکر اس آیت کریمہ میں ہے"اِذْ کُنۡتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیۡنَ قُلُوۡبِکُمْ"۔اب وہ گیت غازیوں کو دلیر کرنے کے لیے گائے جاتے تھے۔خیال رہے کہ گانے والی بچیاں تھیں،گیت بھی فحش نہ تھے،آج کل کے فحش گانے قطعًا حرام ہیں خصوصًا جوان لڑکیوں کے لیے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع