30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1398 -[18] وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فِي جُمُعَةٍ مِنَ الْجُمَعِ: «يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ جَعَلَهُ اللَّهُ عِيدًا فَاغْتَسِلُوا وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ طِيبٌ فَلَا يَضُرُّهُ أَنْ يَمَسَّ مِنْهُ وَعَلَيْكُمْ بِالسِّوَاكِ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَه عَنهُ 1399 -[19] وَهُوَ عَن ابْن عَبَّاس مُتَّصِلا |
روایت ہے حضرت عبید ابن سباق سے(ارسلًا)۱؎ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے جمعوں میں سے ایک جمعہ میں فرمایا اے مسلمانوں کے گروہ یہ وہ دن ہے جسے اﷲنے عید بنایا لہذا نہاؤ اور جس کے پاس خوشبو ہو تو اسے لگانے میں ضر ر نہیں۲؎ اور مسواک لازم پکڑو ۳؎(مالک) اور ابن ماجہ نے ان سے اور انہوں نے ابن عباس سے متصلًا روایت کی۔ |
۱؎ کیونکہ عبید تابعی ہیں،وہ بغیرصحابی کا ذکر کیئے حدیث بیان فرمارہے ہیں،اسی کا نام ارسال ہے۔
۲؎ یعنی جمعہ ہفتہ کی عید ہے اس میں خوشی جشن اورمسلمانوں کا اجتماع ہوتا ہے اگر میلے کچیلے گئے تو کپڑوں اور جسم کی بدبو سے لوگوں کو تکلیف ہوگی،بعض حضرات عیدمیلاد،عرس بزرگان میں نہاکر،صاف کپڑے پہن کر جاتے ہیں،ان کی اصل یہ حدیث ہے۔جب مسلمانوں کے مجمع میں جانا ہو وہاں اچھے لباس اور پاکیزہ جسم سے جانا چاہئیے اسی لیئے عرفات میں غسل کرنا،صاف کپڑے پہننا سنت ہے۔نقصان نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عطر و خوشبو عورتوں کے لیئے خاص نہیں جیسا کہ اس زمانہ میں لوگوں کا خیال تھا اور اس سے بھوت پلید چمٹتے ہیں جیسا کہ مشرکینِ ہند کا عقیدہ ہے اسی لیئے پرانے ہندو عطرنہیں ملتے۔
۳؎ یعنی جمعہ کے وضو میں مسواک کرو۔یہ مطلب نہیں کہ نماز پڑھتے وقت مسواک کرو کیونکہ مسواک سنت وضو ہے نہ کہ سنت نماز جیسا کہ وضو کی بحث میں عرض کیا جاچکا۔
|
1400 -[20] وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَقًّا عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَغْتَسِلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلْيَمَسَّ أَحَدُهُمْ مِنْ طِيبِ أَهْلِهِ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَالْمَاءُ لَهُ طِيبٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ |
روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ جمعہ کے دن غسل کریں ۱؎ اور اپنے گھر کی خوشبو سے لگائیں اگر نہ پائیں تو پانی ہی اس کے لیئے خوشبو ہے ۲؎(احمد،ترمذی)اور ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث حسن ہے۔ |
۱؎ حقًا اگر وجوب کیلئے ہے تو منسوخ ہے کہ شروع میں جب مسلمانوں پرغریبی بہت تھی،موٹا پہنتے تھے،دھوپ میں کا م کرتے تھے تب جمعہ کا غسل فرض تھا،پھر فرضیت منسوخ ہوگئی،سنت باقی ہے اور اگر سنت مراد ہے تو حدیث محکم،بعض علماء کے نزدیک غسل جمعہ ہرمسلمان کے لیئے سنت ہے نماز کو آئے یا نہ آئے،ان کا ماخذ یہ حدیث ہے مگر یہ دلیل کمزور ہے کیونکہ یہاں خطاب جمعہ پڑھنے والوں کے لیئے ہے،نیز ان کے ہاں بھی جمعہ نہ پڑھنے والوں کے لیئے خوشبو لگانا سنت نہیں۔
۲؎ یعنی ا گر عطر خریدنے کی طاقت نہ ہو مگر اس کی تمنا ہو تو اسے غسل میں ہی اس کا ثواب بھی مل جائے گا۔مقصد یہ ہے کہ عطرکسی سے مانگو مت گھر میں ہو تو لگا لو ورنہ خیر۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع