30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1396 -[16] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَحْضُرُ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ: فَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِلَغْوٍ فَذَلِكَ حَظُّهُ مِنْهَا. وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِدُعَاءٍ فَهُوَ رَجُلٌ دَعَا اللَّهَ إِنْ شَاءَ أَعْطَاهُ وَإِنْ شَاءَ مَنعه. وَرجل حَضَره بِإِنْصَاتٍ وَسُكُوتٍ وَلَمْ يَتَخَطَّ رَقَبَةَ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُؤْذِ أَحَدًا فَهِيَ كَفَّارَةٌ إِلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيهَا وَزِيَادَةِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ يَقُولُ: (مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا. .)رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جمعہ میں تین طرح کے شخص آتے ہیں جو وہاں بیہودگی کے لیئے گیا تو اس کا یہی حصہ ہے ۱؎ اور جوشخص وہاں دعا کے لیئے حاضر ہوا تو یہ ایسا شخص ہے جس نے اﷲ سے دعا مانگی اگر چاہے دیدے چاہے منع کردے ۲؎ اور وہ شخص جو وہاں سننے اور خاموشی کے لیئے گیا نہ کسی مسلمان کی گردن پھلانگی اور نہ کسی کو ایذاء دی تو یہ جمعہ اگلے جمعے اور تین دن زیادہ کے لیے کفارہ۳؎ یہ اس لیے ہے کہ رب تعالٰی فرماتا ہے کہ جو نیکی لایا اس کے لیئے دس گنا ہیں۔(ابوداؤد) |
۱؎ یعنی بعض لوگ جمعہ میں محض شغل کے لیئے جاتے ہیں اورمسجد و نماز کے آداب کا لحاظ نہیں رکھتے وہ بجائے ثواب گنہگار ہوکر لوٹتے ہیں۔اس میں بہت صورتیں داخل ہیں:عورتوں کی تاک جھانک کرنے،جوتا چرانے،محض جلسہ و مجمع دیکھنے،مسجد میں دوستوں سے خوش گپیاں کرنے وغیرہ کے لیئے وہاں جانا یا نمازی حکام سے عرض معروض کرنے کہ یہاں بآسانی ان سے ملاقات ہوجائے گی یا مالداروں سے بھیگ مانگنے۔غرضکہ کسی فاسد نیت سے جمعہ میں جانا محرومی کا ذریعہ ہے۔
۲؎ یہ جملہ تصوف کی جڑ ہے کہ عبادات محض دعاؤں یا حاجت روائی یا مشکل کشائی کے لیئے نہ کرو،رب کو راضی کرنے کے لیئے کرو،اگر اس کی رضا نصیب ہوگئی سب کچھ مل جائے گا۔خیال رہے کہ خطبہ میں زبان سے دعا مانگنا حرام ہے۔
۳؎ یعنی ان لوگوں کی نیت صرف اطاعت اور عبادت ہے نہ کہ محض دعا مانگنا،یہ دعا بھی مانگتے ہیں تو اس لیئے کہ رب کا حکم ہے،یہ لوگ بہت کامیاب لوٹتے ہیں۔خیال رہے کہ یہاں انصاف اور سکون علیٰحدہ معنی میں ہے امام سے دو ر فقط خاموش رہے،پاس والا بھی خاموش رہے اور سنے بھی۔
|
1397 -[17] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَكَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَهُوَ كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا وَالَّذِي يَقُولُ لَهُ أَنْصِتْ لَيْسَ لَهُ جُمُعَة» . رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہےحضرت ابن عباس سےفرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے جو جمعہ کے دن امام کے خطبہ پڑھتے ہوئے باتیں کرے وہ اس گدھے کی طرح ہے جو کتابوں کا دفتر اٹھائے ۱؎ اور جو اس سے کہتا ہے خاموش رہو اس کا جمعہ نہیں ۲؎ (احمد) |
۱؎ جیسے یہ گدھا کتابوں کے علم سے فائدہ نہیں اٹھاتا صرف بوجھ میں دبتا ہے ایسے ہی یہ شخص خطبہ سے فائدہ نہیں اٹھاتا محض آنے جانے کی تکلیف برداشت کرتاہے،یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ بحالت خطبہ دینی و دنیوی کوئی گفتگو جائزنہیں۔امام احمد نے دور والے سامعین کو جہاں خطبہ کی آواز نہ پہنچتی ہو ذکر کی اجازت دی،یہ حدیث ان کے خلاف ہے کیونکہ یہاں کلام مطلق ہے۔
۲؎ یعنی اس کا جمعہ کامل نہیں کیونکہ یہ اپنی نصیحت پرخود عامل نہیں کہ اوروں کو تو خاموش کر رہا ہے خود بولتا ہے۔خیال رہے کہ بعض دفعہ صحابہ نے بحالت خطبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بارش کی دعا کرائی ہے،بعض نے قیامت کے بارے میں کچھ پوچھا ہے ان کی وہ عرض و معروض یا خطبہ شروع ہونے سے پہلے تھی یا ختم ہونے کے بعد یا وہ سب کچھ اس حدیث سے منسوخ ہے یا ان بزرگوں کی خصوصیات ہے،لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔ممانعتِ کلام کی حدیث کی تائید قرآن پاک سے ہورہی ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ"(ھٰکَذَا قَالُوْا)
|
1398 -[18] وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فِي جُمُعَةٍ مِنَ الْجُمَعِ: «يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ جَعَلَهُ اللَّهُ عِيدًا فَاغْتَسِلُوا وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ طِيبٌ فَلَا يَضُرُّهُ أَنْ يَمَسَّ مِنْهُ وَعَلَيْكُمْ بِالسِّوَاكِ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَه عَنهُ 1399 -[19] وَهُوَ عَن ابْن عَبَّاس مُتَّصِلا |
روایت ہے حضرت عبید ابن سباق سے(ارسلًا)۱؎ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے جمعوں میں سے ایک جمعہ میں فرمایا اے مسلمانوں کے گروہ یہ وہ دن ہے جسے اﷲنے عید بنایا لہذا نہاؤ اور جس کے پاس خوشبو ہو تو اسے لگانے میں ضر ر نہیں۲؎ اور مسواک لازم پکڑو ۳؎(مالک) اور ابن ماجہ نے ان سے اور انہوں نے ابن عباس سے متصلًا روایت کی۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع