30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1390 -[10] وَرَوَاهُ مَالك عَن يحيى بن سعيد |
اور مالک نے یحیی ابن سعید سے روایت کی۔ |
|
1391 -[11] وَعَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْضُرُوا الذِّكْرَ وَادْنُوا مِنَ الْإِمَامِ فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ يَتَبَاعَدُ حَتَّى يُؤَخَّرَ فِي الْجنَّة وَإِن دَخلهَا».رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ خطبے میں حاضر رہو امام کے قریب بیٹھو کیونکہ انسان دور ہوتا رہتا ہے حتی کہ جنت میں پیچھے بھیجا جائے گا اگرچہ داخل ہوجائے ۱؎(ابوداؤد) |
۱؎ خیال رہے کہ بارگاہ الٰہی میں اخلاص اور اس کا جوش مقبول ہے نہ کہ فقط ظاہری عمل لہذا جو جمعہ میں سستی سے آئے اور دیر میں پہنچے اگرچہ اس کا جمعہ تو ہوجائے گا مگر وہ ثواب نہ ملے گا جو جلدی پہنچنے والے کو ملتا ہے۔اس افصح الفصحاء صلی اللہ علیہ وسلم نے کس نفیس طریقہ سےسمجھایا کہ ایسا آدمی اگرچہ جنت میں جائے گا مگر جلدی حاضر ہونے والوں سے پیچھے۔
|
1392 -[12] وَعَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ اتَّخَذَ جِسْرًا إِلَى جَهَنَّمَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت معاذ ابن انس جہنی سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس نے جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگیں اس نے دوزخ کی طرف پل بنالیا ۲؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ مرقاۃ میں ہے کہ مؤلف سے اس نام سے بھول ہوئی کیونکہ معاذ ابن انس کے والد یعنی انس جہنی صحابی نہیں۔حق یہ ہے کہ عبارت یوں ہے"عَنْ سَھْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ اَبِیْہِ"یا یہاں "عَنْ اَبِیْہِ"درست نہیں۔واﷲ اعلم!
۲؎ یعنی یہ پھلانگنا سخت گناہ ہے اور دوزخ میں جانے کا ذریعہ کیونکہ اس میں مسلمانوں کی توہین بھی ہے اور ایذا بھی،ہاں اگر اگلی صفوں میں جگہ ہو اور لوگ سستی سے پیچھے بیٹھ گئے ہوں تو اس جگہ کو پُر کرنے کے لیئے آگے جاسکتا ہے کیونکہ یہاں قصور ان بیٹھنے والوں کا ہے نہ کہ اس کا۔
|
1393 -[13] وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْحُبْوَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت معاذ ابن انس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن اکڑوں بیٹھنے سے منع فرمایا جب کہ امام خطبہ پڑھتا ہو ۱؎(ترمذی،ابوداؤد) |
۱؎ کیونکہ اس بیٹھک میں نیند بھی آتی ہے اور ریح نکلنے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔بزرگانِ دین تو فرماتے ہیں کہ دوزانو بیٹھ کر خطبہ سنے پہلے خطبہ میں ہاتھ باندھے اور دوسرے میں زانوؤں پر ہاتھ رکھے تو ان شاءاﷲ دورکعت کا ثواب ملے گا کیونکہ خطبہ فرض ظہر کے دو رکعتوں کے قائم مقام ہے۔
|
1394 -[14] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَلْيَتَحَوَّلْ مِنْ مَجْلِسِهِ ذَلِكَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن اونگھے تو اپنی جگہ سے ہٹ جائے ۱؎(ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع