30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ تحیۃ المسجد کے نفل یا سنت جمعہ،پہلے معنی زیادہ قوی ہیں کیونکہ جمعہ کی پہلی چارسنتیں گھر میں پڑھنا بہتر ہے۔غرضکہ اس سے جمعہ کے فرض مراد نہیں کیونکہ آیندہ خطبہ سننے کا ذکر ہے فرض جمعہ خطبہ کے بعد ہوتے ہیں۔
۵؎ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ خطبہ کے وقت خاموش رہنا فرض ہے،لہذا اس وقت نفل پڑھنا،بات کرنا،کھانا پینا سب حرام ہے۔دوسرے یہ کہ جس تک خطبہ کی آواز نہ پہنچتی ہو وہ بھی خاموش رہے کیونکہ یہاں خاموشی کو سننے پر موقوف نہ فرمایا۔
۶؎ دوسرے جمعہ سے مراد آیندہ جمعہ ہے یا گزشتہ،دوسرے معنی زیادہ قوی ہیں جیسا کہ ابن خزیمہ بلکہ ابوداؤد کی روایات میں ہے۔معلوم ہوا کہ بعض نیکیاں گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ"۔
|
1382 -[2] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ اغْتَسَلَ ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَصَلَّى مَا قُدِّرَ لَهُ ثُمَّ أَنْصَتَ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ خُطْبَتِهِ ثُمَّ يُصَلِّيَ مَعَهُ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى وَ فَضْلُ ثَلَاثَةِ أَيَّام» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ جو غسل کرے پھر جمعہ کو آئے ۱؎ پھر جو مقدر میں ہے وہ نماز پڑھے پھر خاموش بیٹھے حتی کہ امام خطبہ سے فارغ ہوجائے پھر اس کے ساتھ نماز پڑھے تو اس جمعہ اور دوسرے جمعہ کے درمیان اور تین دن زیادہ اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۲؎(مسلم) |
۱؎ بعض علماء فرماتے ہیں کہ غسلِ جمعہ نماز کے لیئے مسنون ہے نہ کہ دن جمعہ کے لیئے لہذا جس پر جمعہ کی نماز نہیں ان کے لیئے غسل سنت نہیں،ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔بعض فرماتے ہیں کہ جمعہ کا غسل نماز جمعہ سے قریب کرو حتی کہ اس کے وضو سے جمعہ پڑھو۔مگر حق یہ ہے کہ غسل جمعہ کا وقت طلوع فجر سے شروع ہوجاتا ہے۔
۲؎ یعنی دس دن کے گناہ کہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے،پچھلی حدیث میں آٹھ دن کا ذکر تھا یہاں دس کا مگر دونوں درست ہیں۔جتنا خشوع زیادہ اتنا ثواب زیادہ یا اولًا آٹھ دن کی بخشش کا وعدہ تھا پھر دس دن کا وعدہ ہوا۔
|
1383 -[3] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فقد لَغَا» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو وضو کرے تو اچھا کرے ۱؎ پھر جمعہ میں آوے تو خاموش رہے اور کان لگا کر سنے ۲؎ تو اس جمعہ اور دوسرے جمعہ کے درمیان کے گناہ مع تین دن کی زیادتی کے بخش دیئے جائیں گے جس نے کنکر پکڑے اس نے لغو کیا۳؎(مسلم) |
۱؎ اس طرح کہ وضو کے فرائض،سنتیں،مستحبات سب ادا کرے۔اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کا غسل واجب نہیں،سنت ہے۔جو صرف وضو ہی کرے وہ گنہگار نہیں۔امام مالک کے ہاں یہ غسل واجب ہے،یہ حدیث ان کے خلاف ہے۔
۲؎ اس طرح کہ اگر دور ہو تو صرف خاموش رہے اور اگر امام سے قریب ہو کہ خطبہ کی آواز آرہی ہو تو کان لگا کر سنے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع