دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

1372 -[3]وَرَوَاهُ مَالك عَن صَفْوَان بن سليم

1373 -[4] وَرَوَاهُ أَحْمد عَن أبي قَتَادَة

اور مالک نے صفوان ابن سلیم سے،احمد نے ابوقتادہ سے روایت کی۔

 

1374 -[5]

وَعَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَبِنِصْفِ دِينَارٍ».رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُودَاوُد وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو بلاوجہ جمعہ چھوڑ دے تو ایک دینار خیرات کرے اور اگر نہ پائے تو آدھا دینار ۱؎(احمد، ابو داؤد،ابن ماجہ)

۱؎ اس کی اصل یہ ہے کہ صدقہ کی برکت سے غضب الٰہی  کی آگ بجھ جاتی ہے،ورنہ اس صدقہ سے جمعہ کا ثواب نہیں مل سکتا،اس زمانہ میں بعض مفتی مجرموں پر کچھ کَفارے کا فتویٰ دیتے ہیں ان کی اصل یہ حدیث ہے۔

1375 -[6]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «الْجُمُعَةُ عَلَى مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا جمعہ اس پر ہے جو اذان سنے ۱؎(ابو داؤد)۲؎

۱؎ یعنی مضافات شہر میں جہاں تک اذان کی آواز پہنچے ان پر جمعہ فرض ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ شہر کے آس پاس رہنے والوں پربھی جمعہ فرض ہے جسے فناءشہر کہتے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ جس شہری نے جمعہ کی اذان سن لی وہ اب بغیر جمعہ پڑھے سفرکو نہ جائے یا یہ مطلب ہے کہ اذان سنتے ہی دنیوی کاروبار چھوڑ دو،جمعہ کی تیاری کرو۔یہاں اذان سے دوسری اذان مراد ہے کیونکہ پہلی اذان حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھی ہی نہیں،بعض نے فرمایا کہ اس سے اذان اول مراد ہے جو زمانہ عثمانی میں پیدا ہونے والی تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے احکام آج بیان فرمادیئے۔

۲؎ شیخ ابن حجر فرماتے ہیں یہ حدیث ضعیف ہے مگر بیہقی نے اس کی تائید دوسری حدیث سے کی لہذا اب یہ حدیث حسن لغیرہ ہے۔

1376 -[7]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْجُمُعَةُ عَلَى مَنْ آوَاهُ اللَّيْلُ إِلَى أَهْلِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث إِسْنَاده ضَعِيف

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا جمعہ اس پر ہے جسے رات اس کے گھر میں جگہ دیدے ۱؎(ترمذی)اور فرمایا کہ اس حدیث کی اسناد ضعیف ہے۔

۱؎ یعنی جو لوگ شہر سے اتنے فاصلہ پر ہوں کہ صبح اپنے وطن سے جائیں،شہرپہنچیں،پھر وہاں جمعہ پڑھ کر چلیں اور شام سے پہلے اپنے گھر آجائیں،چونکہ یہ حدیث ضعیف ہے اس لیے اس کے اطلاق پر ہمارے امام اعظم ابوحنیفہ نے عمل نہ کیا صرف شہر والوں اورمضافات شہروالوں پر جمعہ فرض مانا۔

1377 -[8]

وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْجُمُعَةُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فِي جَمَاعَةٍ إِلَّا عَلَى أَرْبَعَةٍ: عَبْدٍ مَمْلُوكٍ أَوِ امْرَأَةٍ أَوْ صَبِيٍّ أَوْ مَرِيضٍ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ بِلَفْظِ الْمَصَابِيحِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بني وَائِل

روایت ہےحضرت طارق ابن شہاب سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جمعہ ہر مسلمان پرباجماعت حق ہے فرض ہے سوائے چار شخصوں کے مملوک غلام، عورت،بچہ،بیمار ۲؎(ابوداؤد)اورشرح سنہ میں بالفاظ مصابیح بنی وائل کے ایک شخص سے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن