دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

833 -[12] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ مُعَاذُ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَأْتِي فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ فَصَلَّى لَيْلَةً مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ أَتَى قَوْمَهُ فَأَمَّهُمْ فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَانْحَرَفَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى وَحْدَهُ وَانْصَرَفَ فَقَالُوا لَهُ أَنَافَقَتْ يَا فُلَانُ قَالَ لَا وَاللَّهِ وَلَآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فلأخبرنه فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا أَصْحَابُ نَوَاضِحَ نَعْمَلُ بِالنَّهَارِ وَإِنَّ مُعَاذًا صَلَّى مَعَكَ الْعِشَاءَ ثُمَّ أَتَى قَوْمَهُ فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَأَقْبَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُعَاذٍ فَقَالَ: " يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ؟ أَنْتَ اقْرَأ: (الشَّمْس وَضُحَاهَا " (وَالضُّحَى) (وَاللَّيْل إِذا يغشى)و (وَسبح اسْم رَبك الْأَعْلَى)

 

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے پھر آکر اپنی قوم کی امامت کرتے ۱؎ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء پڑھی پھر اپنی قوم میں آئے ان کے امام بنے اور سورۃ بقر شروع کردی تو ایک شخص پھر گیا۲؎ کہ اس نے سلام پھیرکر اکیلے نماز پڑھی اور چلا گیا لوگوں نے کہا اے فلاں کیا تو منافق ہوگیا بولا نہیں رب کی قسم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤں گا اور آپ کو یہ خبر دوں گا۳؎ پھر وہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا  اور عرض کیا یارسول اﷲ ہم لوگ اونٹ والے ہیں ۴؎ دن بھر کام کرتے ہیں اور حضرت معاذنے آپ کے ساتھ نماز پڑھی پھر اپنی قوم میں آئے سورۂ بقر شروع کردی۵؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم معاذ پر متوجہ ہوئے اور فرمایا اے معاذ کیا تم فتنہ گر ہو "وَالشَّمْسِ وَ ضُحٰىہَا"اور "وَالضُّحٰی" "وَالَّیۡلِ اِذَا یَغْشٰی"اور "سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی"پڑھا کرو ۶؎(مسلم، بخاری)

۱؎ ظاہر یہ ہے کہ حضرت معاذ حضور کی ساتھ نفل پڑھ لیتے تھے،پھر اپنی قوم میں آکر انہیں فرض پڑھاتے تھے کیونکہ اس حدیث میں یہ ذکر نہیں کہ آپ پہلے فرض پڑھتے تھے اور بعد میں نفل،نیز یہ فعل تو حضرت معاذ کا ہے اور اس کے راوی حضرت جابر ہیں اورکسی کی نیت صرف اندازے سے معلوم نہیں ہوسکتی اور اگر آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فرض ہی پڑھتے ہوں تو اپنی قوم کیساتھ بھی فرض ہی پڑھتے تھے اور یہ اس زمانے کا واقعہ ہے جب ایک فرض دو بار پڑھے جاتے تھے،بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا۔چنانچہ حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ ہم کو ایک فرض دوبار پڑھنے سے منع کیا گیا اور اگر آپ حضور کے پیچھے فرض ہی پڑھتے ہوں اور اپنی قوم کے ساتھ نفل تو یہ آپ کا اجتہادی عمل ہے جس کی حضور کو اطلاع نہیں دی گئی تھی،اطلاع ہونے پرحضور نے اس سے منع فرما دیا۔چنانچہ امام احمد نے حضرت سلیم سلمی ٰسے روایت کی کہ جب حضور کی بارگاہ میں حضرت معاذ کا یہ واقعہ پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اے معاذ! تم فتنہ گر نہ بنو یا میرے ہی ساتھ نماز پڑھا کرویا اپنی قوم کو ہلکی نماز پڑھایا کرو۔بہرحال یہ حدیث حنفیوں کے خلاف نہیں اور اس سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ نفل والے کے پیچھے فرض والے کی نماز جائز ہے۔اس کی مزید تحقیق ہماری کتاب "جاءالحق"حصہ دوم میں دیکھو۔خیال رہے کہ فرض والے کے پیچھے نفل والے کی نماز جائز ہے مگر نفل والے کے پیچھے فرض والے کی نماز جائز نہیں کیونکہ ترمذی،ابوداؤد،احمد وغیرہ میں ہے کہ حضور فرماتے ہیں"اَلاِمَامُ ضَامِنٌ"امام ضامن ہے یعنی مقتدی کی نماز امام کے ضمن میں ہے اور ظاہر ہے کہ فرض نفل کو اپنے ضمن میں لے سکتا ہے نہ کہ نفل فرض کو۔(از لمعات)

۲؎ یعنی ایک صاحب نے جماعت سے نماز شروع کی مگر جب حضرت معاذ نے سورۂ بقر شروع کی تو وہ سمجھ گئے کہ آ پ پوری سورۂ بقر پڑھیں گے تو وہ نماز توڑ کر جماعت سے نکل گئے اور علیٰحدہ فرض پڑھ کر چلے گئے۔یہ صاحب خرام ابن ابی کعب انصاری ہیں جیسا کہ مرقات وغیرہ میں ہے۔

۳؎ ا س سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جماعت اولیٰ کے وقت جماعت سے علیٰحدہ رہنا منافقت کی علامت ہے۔خواہ نماز علیٰحدہ پڑھے خواہ علیٰحدہ بیٹھا رہے۔دوسرے یہ کہ مقتدیوں پر امام کا احترام لازم ہے حتی الامکان ان پر زبان طعن دراز نہ کریں۔دیکھو حضرت خرام اور دوسرے صحابہ نے حصرت معاذ سے لڑائی شروع نہ کردی،بلکہ حضور کی بارگاہ میں شکایت پیش کی حضور نے انہیں سمجھایا۔تیسرے یہ کہ امام مسجد کی شکایت سلطان اسلام یا قاضی اسلام سے کرسکتے ہیں کہ وہ امام کو سمجھا بجھا دیں،اس میں کوئی حرج نہیں سنت صحابہ سے ثابت ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن