دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

۲؎ غالبًا یہ سفر سفر حج تھا۔کسی منزل میں سب نے جمع ہوکر باجماعت نماز پڑھی،پھر اپنے اپنے خیموں پر آگئے وہاں آپ نے لوگوں کو اہتمام کے ساتھ باقاعدہ کھڑے ہوکر اپنے ڈیروں پرنماز پڑھتے دیکھاسفر میں جلدی تھی۔یہ نوافل سواری پربھی پڑھے جاسکتے تھے،ان حضرات کے ان نفلوں کی وجہ سے منزل کھوٹی ہورہی تھی تب آپ نے ناراض ہو کر یہ فرمایا۔

۳؎ یعنی یہ حضرات سفر میں اترکر اہتمام سے اور سفر روک کر صرف دو فرض ہی پڑھتے تھے۔نوافل کے لیئے اتنا اہتمام کرنا ہوتا تو فرض ہی پورے کیوں نہ پڑھے جاتے۔فقیر کی اس توجیہ سے یہ حدیث بالکل واضح اور صاف ہوگئی اورکسی آئندہ حدیث کے خلاف نہ رہی۔اگر یہ معنی کیئے جائیں کہ سفر میں نفل مطلقًا جائز نہیں تو مسلم،بخاری ترمذی وغیرہم نے انہی حضرت ابن عمر سے سفر میں نوافل کی بہت احادیث نقل کی ہیں جن میں سے کچھ اسی مشکوٰۃ شریف میں بھی آرہی ہیں۔بعض عقلمندوں نے اس حدیث کی بنا پر سفرمیں نفل بلکہ سنن و واجبات کوبھی منع کیا یہ سخت غلطی ہے۔

1339 -[7]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَين الظُّهْرِ وَالْعَصْر إِذَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ سَيْرٍ وَيجمع بَين الْمغرب وَالْعشَاء. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابن عباس سےفرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر میں چلتے ہوتے تو ظہر اورعصر جمع کرتے اور مغرب اورعشاءجمع فرماتے ۱؎(بخاری)

۱؎ یعنی سفر کرنے کی حالت میں ظہر اور عصر اسی طرح مغرب اورعشاء یوں جمع فرماتے کہ ظہر آخری وقت میں پڑھتے اور عصر اول وقت،یوں ہی مغرب آخری وقت ادا کرتے اور عشاء اول وقت یعنی ہرنماز اپنے وقت میں ادا ہوتی صورۃً جمع ہوتیں۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عصر ظہر کے وقت میں پڑھ لیتے اور عشاءمغرب کے وقت میں یعنی جمع حقیقی مراد نہیں،ورنہ یہ حدیث قرآن شریف کے بھی خلاف ہوگی،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ کِتٰبًا مَّوْقُوۡتًا"یعنی نمازمسلمانوں پر اپنے اپنے اوقات میں فرض ہے اور دیگر احادیث کے بھی مخالف۔چنانچہ طبرانی نے حضرت ابن مسعود سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں مغرب اور عشاء اس طرح جمع فرماتے کہ مغرب اس کے آخر وقت میں پڑھتے اورعشاء اول وقت میں اور بخاری نے حضرت سالم سے ایک طویل حدیث نقل کی جس میں یہ ہے کہ حضرت ابن عمر کو جب سفر میں جلدی ہوتی تو مغرب پڑھتے پھرتھوڑی دیرٹھہرکرعشاء پڑھتے،نسائی نےحضرت نافع سے طویل حدیث نقل کی کہ حضرت ابن عمر مغرب کی نماز کے لیئے جب اترے جب کہ شفق قریب غروب تھی،مغرب پڑھی تو شفق غائب ہوگئی،شفق غائب ہوتے ہی عشاء پڑھ لی۔وہ حدیثیں اس حدیث کی شرح ہیں اور احناف کے بالکل خلاف نہیں بلکہ حق میں ہیں۔اس کی پوری تحقیق "جاءالحق"حصہ دوم میں دیکھو۔

1340 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي السَّفَرِ عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ يُومِئُ إِيمَاءً صَلَاةَ اللَّيْلِ إِلَّا الْفَرَائِضَ وَيُوتِرُ على رَاحِلَته

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں فرائض کےسواء رات کی نماز سواری پر پڑھتے جدھربھی اس کا منہ ہوتا ۱؎(اشارہ سے پڑھتے تھے)وتر سواری پر پڑھتے تھے ۲؎(مسلم،بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن