30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ یعنی دن رات میں جب بھی میں نے وضو یا غسل کیا تو دو نفل تحیۃ الوضو پڑھ لیے مگر یہاں اوقات غیرمکروہ میں پڑھنا مراد ہے تاکہ یہ حدیث ممانعت کی احادیث کے خلاف نہ ہو۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت بلال سے یہ پوچھنا اسی لیے تھا تاکہ آپ یہ جواب دیں اور امت اس پر عمل کرے ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو ہر شخص کے ہر چھپے کھلے عمل سے واقف ہیں،نیز یہ درجہ صرف حضرت بلال کو ان نوافل کا ہے۔ہزار ہا آدمی یہ نوافل پڑھیں گے یا پابندی کریں گے مگر انہیں یہ خدمت نصیب نہیں۔
|
1323 -[2] عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ فِي الْأُمُورِ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ يَقُولُ: " إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ ثُمَّ لْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ فَإِنَّك تَقْدِرُ وَلَا أقدر وَتعلم وَلَا أعلم وَأَنت علام الغيوب اللَّهُمَّ إِنَّ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي - أوقال فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ - فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي - أَوْ قَالَ فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ - فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاقَدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ أَرْضِنِي بِهِ".قَالَ: «ويسمي حَاجته». رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سارے کاموں میں استخارہ اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کی سورۃ سکھاتے تھے ۱؎ فرماتے تھے کہ جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے ۲؎ تو فرض کے سوا دو رکعتیں پڑھے۳؎ پھر کہے الٰہی میں تیرے علم کی مدد سے تجھ سے خیرات مانگتا ہوں اور تیری قدرت کے وسیلہ سے تجھ سے قدرت مانگتا ہوں۴؎ اور تیرا بڑا فضل مانگتا ہوں تو قادر ہے اور میں قادرنہیں تو جانتا ہے میں نہیں جانتا ۵؎ تو غیبوں کا جاننے والا ہے،الٰہی اگر تو جانتا ہو کہ یہ کام میرے لیے دین و دنیا اور انجام کار میں یا فرمایا میرے لیے اس جہاں اور اس جہاں میں بہتر ہو ۶؎ تو اسے میرے لیے مقدر فرمادے اور مجھ پر آسان کردے پھر مجھے برکت دے ۷؎ اور اگر تو جانتا ہو کہ یہ کام میرے دین و دنیا میں اور انجام کار میں یا فرمایا کہ میرے لیے اس جہاں اور اس جہاں میں شر ہو تو اسے مجھ سے پھیر دے اور مجھے اس سے ۸؎ اور میرے لیے بھلائی مقدرکر جہاں ہو۹؎ پھر مجھے اس پر راضی کردے فرمایا اور اپنی حاجت کا نام لے ۱۰؎ (بخاری) |
۱؎ یعنی نماز استخارہ ایسے اہتمام سے سکھاتے تھے جیسے قرآن مجید کی سورت۔استخارہ کے معنی ہیں خیر مانگنا یا کسی سے بھلائی کا مشورہ کرنا، چونکہ اس دعا و نماز میں بندہ اﷲسے گویا مشورہ کرتا ہے کہ فلاں کام کروں یا نہ کروں اسی لیئے اسے استخارہ کرتے ہیں۔
۲؎ بشرطیکہ وہ کام نہ حرام ہو نہ فرض و واجب اور نہ روزمرہ کا عادی کام۔لہذا نماز پڑھنے،حج کرنے یا کھانا کھانے،پانی پینے پر استخارہ نہیں۔یہ بھی ضروری ہے کہ اس کام کا پورا ارادہ نہ کیا ہو صرف خیال ہو جیسے کوئی کاروبار،شادی بیاہ،مکان کی تعمیر وغیرہ کا معمولی ارادہ ہو اور تردد ہو کہ نہ معلوم اس میں بھلائی ہوگی یا نہیں تو استخارہ کرے۔(لمعات)
۳؎ خاص استخارہ کے لیئے دن میں یا رات میں مکروہ اوقات کے علاوہ میں۔پہلی رکعت میں"قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ"پڑھے دوسری میں"قُلْ ہُوَاللہُ اَحَدٌ"کہ یہ ہی آسان ہے۔(مرقاۃ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع