دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

باب التطوع

نوافل کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  تطوع طوع یا طاعۃٌ سے بنا،بمعنی فرمانبرداری۔اب اصطلاح میں نفلی عبادت کو تطوع کہا جاتا ہے،یعنی جس عبادت کا شریعت نے مکلف نہ کیا ہو بندہ اپنی خوشی سے کرے۔یہ لفظ ہرنفلی عبادت پر بولا جاتا ہے مگر یہاں نفل نماز مراد ہے کیونکہ مؤلف اسے"کتاب الصلوۃ"میں لائے۔

1322 -[1] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ: «يَا بِلَالُ حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عمل عملته فِي الْإِسْلَام فَإِنِّي سَمِعت دق نعليك بَين يَدي الْجَنَّةِ» . قَالَ: مَا عَمِلْتُ عَمَلًا أَرْجَى عِنْدِي أَنِّي لم أتطهر طهُورا مِنْ سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ مَا كُتِبَ لِي أَنْ أُصَلِّيَ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کے وقت بلال سے فرمایا  ۱؎ کہ اے بلال مجھے اپنے امید افزا کام کی خبر دو جو تم نے اسلام میں کیا کیونکہ میں نےتمہارےنعلین کی آہٹ جنت میں اپنے آگےسنی ۲؎ فرمایا میں نے اپنے نزدیک کوئی امید افزا کام نہیں کیا بجز اس کے کہ دن اور رات کی کسی گھڑی میں وضو نہیں کیا مگر اس وضو سے اس قدر نماز پڑھ لی جو میرے مقدر میں تھی ۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎  غالب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی شب خواب میں معراج ہوئی تب اس کے سویرے کو حضرت بلال سے یہ سوال فرمایا کیونکہ جسمانی معراج کے سویرے تو فجر جماعت سے پڑھی نہ تھی یا یہ سب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جسمانی معراج میں ملاحظہ فرمایا تھا مگر یہ سوال کسی اور دن فجر کی نماز کے بعد فرمایا،یہ ہی معنی زیادہ ظاہر ہیں۔

۲؎حضرت بلال کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے جنت میں جانا ایسا ہے جیسے نوکر چاکر بادشاہوں کے آگے ہٹو بچو کرتے ہوئے چلتے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ اے بلال! تم نے ایسا کون سا کام کیا جس سے تم کو میری یہ خدمت میسر ہوئی۔خیال رہے کہ معراج کی رات نہ تو حضرت بلال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنت میں گئے نہ آپ کو معراج ہوئی بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات وہ واقعہ ملاحظہ فرمایا جو قیامت کے بعد ہوگا کہ تمام خلق سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم جنت میں داخل ہوں گے اس طرح کہ حضرت بلال خادمانہ حیثیت سے آگے آگے ہوں گے۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ اﷲ تعالٰی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کے انجام پر خبردار کیا کہ کون جنتی ہے اور کون دوزخی اور کون کس درجہ کا جنتی دوزخی ہے،یہ علوم خمسہ میں سے ہیں اور دوسرے یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کان و آنکھ لاکھوں برس بعد ہونے والے واقعات کو سن لیتے ہیں،دیکھ لیتے ہیں۔یہ واقعہ اس تاریخ سے کئی لاکھ سال بعد ہو گا مگر قربان ان کانوں کے آج ہی سن رہے ہیں۔تیسرے یہ کہ انسان جس حال میں زندگی گزارے گا اسی حال میں وہاں ہوگا۔حضرت بلال نے اپنی زندگی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزاری وہاں بھی خادم ہو کر ہی اٹھے۔اﷲ تعالٰی حضرت بلال کے صدقے مجھے نصیب کرے کہ وہاں بھی اپنے پیارے محبوب کے گن گاؤں،ان کی نعتیں لکھوں اور پڑھوں۔شعر

صبا وہ چلے کہ باغ پھلے و پھول کھلے کہ دن ہوں بھلے

لواء کے تلے ثناء میں کھلے رضا کی زبان تمہارے لیے

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن