30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہمیشگی کرنا منع نہیں ہاں انہیں فرض و واجب سمجھ کر ہمیشگی کرنا ممنوع ہے،لہذا جو لوگ بارھویں تاریخ کو روزہ رکھتے ہیں یا ہمیشہ گیارھویں کو فاتحہ کرتی ہیں وہ اس ہمیشگی کی وجہ سے گنہگار نہیں۔
|
1319 -[11] وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تُصَلِّي الضُّحَى ثَمَانِي رَكَعَاتٍ ثُمَّ تَقُولُ: «لَوْ نُشِرَ لِي أَبَوَايَ مَا تركتهَا» . رَوَاهُ مَالك |
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ آپ چاشت کی آٹھ رکعتیں پڑھتی تھیں پھر فرماتیں کہ اگر میرے ماں باپ اٹھا بھی دیئے جائیں تو میں یہ رکعتیں نہ چھوڑوں ۱؎(مالک) |
۱؎ یعنی اگر اشراق کے وقت مجھے خبر ملے کہ میرے والدین زندہ ہوکر آگئے ہیں تو میں ان کی ملاقات کےلیئے یہ نفل نہ چھوڑوں بلکہ پہلے یہ نفل پڑھوں پھر ا ن کی قدم بوسی کروں۔اس کی اوربھی شرحیں کی گئی ہیں مگر یہ زیادہ مناسب ہے۔
|
1320 -[12] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى حَتَّى نَقُولَ: لَا يَدَعُهَا وَيَدَعُهَا حَتَّى نَقُولَ: لَا يُصليهَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت پڑھتے رہتے حتی کہ ہم کہتے اب چھوڑیں گے ہی نہیں اور چھوڑے ر ہتے حتی کہ ہم کہتے کہ اب آپ پڑھیں گے ہی نہیں ۱؎(ترمذی) |
۱؎ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نماز چاشت کی احادیث بہت ہیں اس کی راوی صرف ام ہانی نہیں۔حضرت عائشہ صدیقہ سے جو منقول ہے کہ آپ چاشت نہیں پڑھتے تھے اس سے مراد ہے کہ ہمیشہ نہیں پڑھتے تھے کبھی کبھی پڑھتے تھے یا مسجد میں نہیں پڑھتے تھے۔خیال رہے کہ ہم کو نوافل پر ہمیشگی چاہیے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر نوافل پر ہمیشگی نہ فرماتے تھے تاکہ امت اسے واجب نہ سمجھ لے یا امت کےلیئے سنت مؤکدہ نہ بن جائے،آپ کے اور احکام ہیں ہمارے کچھ اور۔مرقاۃ نے فرمایا کہ چاشت کی نماز آپ پر واجب تھی مگر ہر دن نہیں کبھی کبھی۔واﷲ اعلم!
|
1321 -[13] وَعَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: تُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَ: لَا. قُلْتُ: فَعُمَرُ؟ قَالَ: لَا. قُلْتُ: فَأَبُو بَكْرٍ؟ قَالَ: لَا. قُلْتُ: فَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا إخَاله. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت مورق عجلی سے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر سے عرض کیا کہ کیا آپ چاشت پڑھتے ہیں فرمایا نہیں میں نے عرض کیا عمر فاروق فرمایا نہیں میں نے عرض کیا اچھا ابوبکر صدیق فرمایا نہیں ۱؎میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا مجھے آپ کا خیال نہیں ۲؎(بخاری) |
۱؎ یہاں ہمیشگی کی نفی ہے یا مسجد میں ادا کرنے کی،ورنہ یہ حضرات چاشت پڑھتے تھے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔
۲؎ بعض روایات میں ہے کہ حضرت ابن عمر نے نماز چاشت کو بدعت فرمایا وہاں اور مسجد میں لوگوں میں اعلان کرکے ادا کرنا مراد ہے اس نماز کا گھر میں ادا کرنا مستحب ہے اور ممکن ہے کہ آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چاشت پڑھنے کی خبر نہ ہوئی ہو اپنے گمان پر اسے بدعت فرمادیا ہو۔حق یہ ہے کہ چاشت سنت ہے اور اس پرہمیشگی مستحب ہے۔(مرقاۃ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع