30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
827 -[6] وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَقَتَادَةَ: «وَإِذا قَرَأَ فأنصتوا» |
اور مسلم کی ابوہریرہ و قتادہ سے ایک روایت میں ہے کہ جب امام قرأت کرے تو تم خاموش رہو ۱؎ |
۱؎ یہ حدیث امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی قوی دلیل ہے کہ مقتدی الحمد نہ کہے کیونکہ امام کی قرأت کے وقت اسے خاموشی ضروری ہے۔ یہ حدیث چند وجہ سے نہایت قوی اور قابل عمل ہے:ایک یہ کہ اس کی تائید قرآن کریم سے ہورہی ہے،رب فرماتا ہے:"وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوۡا لَہٗ وَاَنۡصِتُوۡا"الخ۔دوسرے یہ کہ اس حدیث کی تائید بہت احادیث سے ہورہی ہے۔فقیر نے اس کے متعلق چوبیس احادیث جمع کیں،دیکھو"جاءالحق"حصہ دوم۔تیسرے یہ کہ عام صحابہ کرام کا یہی عمل تھا کہ وہ امام کے پیچھے قرأت سے منع کرتے تھے۔چنانچہ اسّی۸۰ صحابہ سے یہ ممانعت ثابت ہے۔چوتھے یہ کہ یہ حدیث عقل کے بھی مطابق ہے کیونکہ جب مقتدی سورت نہیں پڑھتا کہ امام کی قرأت مقتدی کے لیے کافی ہے تو چاہیے کہ فاتحہ بھی نہ پڑھے کہ اس میں بھی امام کی قرأت مقتدی کی قرأت ہے۔پانچویں یہ کہ رکوع میں شریک ہونے والے کو رکعت مل جاتی ہے اگر امام کی قرأت اس کے لیے کافی نہ ہوتی بلکہ مقتدی کو بھی فاتحہ پڑھنی فرض ہوتی تو اسے رکعت نہ ملتی۔چھٹے یہ کہ جلیل القدر صحابہ نے امام کے پیچھے تلاوت کرنے والوں کو بددعائیں دیں۔چنانچہ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ جو امام کے پیچھے پڑھے اس کے منہ میں خاک،حضرت عمر فرماتے ہیں کہ جو امام کے پیچھے تلاوت کرے اس کے منہ میں پتھر،حضرت سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ جو امام کے پیچھے تلاوت کرے اس کے منہ میں انگارے وغیرہ۔ساتویں یہ کہ عام مسلمین کا اس پرعمل ہے۔نوے فیصد مسلمان حنفی ہیں جو امام کے پیچھے تلاوت نہیں کرتے۔غرضکہ یہ حدیث بہت قوی ہے۔دیکھو ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ دوم۔
|
828 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقْرَأ فِي الظُّهْرِ فِي الْأُولَيَيْنِ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا وَيطول فِي الرَّكْعَة الأولى مَا لَا يطول فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ وَهَكَذَا فِي الْعَصْرِ وَهَكَذَا فِي الصُّبْح |
روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ پڑھتے تھے ۱؎ اور کبھی ہم کو کوئی آیت سنا دیتے تھے ۲؎ اور پہلی رکعت میں کسی قدر درازی کرتے جو دوسری رکعت میں نہ کرتے ۳؎ یوں ہی عصر میں اور یوں ہی صبح میں کرتے۔(مسلم،بخاری) |
۱؎ نماز فرض کی رکعتوں میں چند طرح فرق ہے:ایک یہ کہ اگلی دو رکعتوں میں قرأ ت فرض ہے،آخر ی رکعات میں نفل۔دوسرے یہ کہ اول رکعتیں بھری پڑھی جاتی ہیں بعد کی خالی۔تیسرے یہ کہ فجر،مغرب،عشاء میں اول رکعتوں میں امام اونچی تلاوت کرتا ہے بعد والیوں میں آہستہ۔چوتھے یہ کہ اول کی دو رکعتیں سفر و حضر ہر حالت میں پڑھی جاتی ہیں مگر آخری دو رکعتیں سفر میں معاف ہوجاتی ہیں۔یہ تمام مسائل حدیث سے ثابت ہیں جن میں سے ایک مسئلہ یہاں آیا کہ اول رکعتیں بھری پڑھو آخری خالی۔
۲؎ یعنی ظہر و عصر کی نمازوں میں سرکار ایک آدھ آیت زور سے پڑھ دیتے تاکہ صحابہ کرام کو معلوم ہوجائے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم فلاں سورت پڑھ رہے ہیں،اب ہم کو یہ جائز نہیں ہم لوگ اخفاء نمازوں میں ایک آیت بھی آواز سے نہیں پڑھ سکتے،یہ حضور کی خصوصیات سے ہے۔
۳؎ یعنی رکعت اول بمقابلہ دوسری رکعت کے کچھ دراز پڑھتے یا اس لیے کہ اس میں"سبحانك اللّٰھم،اعوذ،بسم اﷲ بھی ہے،رکعت دوم میں یہ نہیں یا اس لیے کہ رکعت اول میں قرأت کچھ زیادہ فرماتے تاکہ پیچھے آنے والے شرکت کرسکیں۔احناف کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع