30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا سر پر ہاتھ رکھنا تواضع کے لیئے تھا۔اس میں فرمایا یہ گیا کہ جب میں سید الانبیاء ہونے کے باوجود اﷲ کی رحمت سے بے نیاز نہیں پھر ان سے کون بے نیاز ہوسکتا ہے۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب کچھ رب تعالٰی کے لحاظ سے فرمایا،امت کے لحاظ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سب کی پناہ ہیں۔سب کو اﷲ کی رحمت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ملنی ہے۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم ابر رحمت ہیں جس میں پانی رب کے حکم سے آتا ہے مگر تمام جہان کو پانی اس بادل سے ملتا ہے،اس بادل کے فیض سے سمندر میں موتی ہوتے ہیں اور خشکی میں دانے و پھل وغیرہ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے صحابہ کے سینوں میں معرفت کے موتی پیدا ہوئے،عام مسلمانوں کے سینوں میں ایمان و تقویٰ۔
|
1306 -[12] وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ آپ نے فرمایا اﷲ تعالٰی پندرھویں شعبان کی شب میں توجہ کرم فرماتا ہے تو کافر یا کینہ والے کے سوا اپنی سب مخلوق کو بخش دیتا ہے۔(ابن ماجہ) |
|
1307 -[13] وَرَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَفِي رِوَايَته: «إِلَّا اثْنَيْنِ مُشَاحِن وَقَاتل نفس» |
اور احمد نے عبداﷲ ابن عمرو ابن عاص سے روایت کی اور ان کی روایت میں ہے دو کے سوا کینہ پرور اور قاتل نفس ۱؎ |
۱؎ کینہ سے مراد دنیوی کینے اور عداوتیں ہیں اور قتل سے مراد ظلمًا قتل ہے،ورنہ کفار سے کینہ رکھنا اور جہاد میں کفار کا قتل،ڈاکو،زانی اور قاتلِ نفس کا قتل عبادت ہے۔بعض جگہ شب برات کے دن ایک دوسرے کو حلوے وغیرہ کے تحفے بھیجتے ہیں اپنے قصوروں کی آپس میں معافی چاہ لیتے ہیں،ان سب کی اصل یہ حدیث ہے کہ عداوت و کینہ والا اس رات کی رحمتوں سے محروم ہے اور یہ تحفہ کینے دفع کرنے کا ذریعہ ہے،نیز یہ رات عبادتوں کی اور خیرات ہدایا وغیرہ بھی عبادت ہیں،ان خیراتوں کو روکنا اور شرک کہنا بڑی جہالت۔
|
1308 -[14] وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَقُومُوا لَيْلَهَا وَصُومُوا يَوْمَهَافَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَنْزِلُ فِيهَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ: أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ؟ أَلَا مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَهُ؟ أَلَا مُبْتَلًى فَأُعَافِيَهُ؟ أَلَا كَذَا أَلَا كَذَا حَتَّى يطلع الْفجْر". رَوَاهُ ابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب پندھوریں شعبان کی رات ہو تو رات میں قیام کرو،دن میں روزہ رکھو ۱؎ کیونکہ اس رات میں اﷲ تعالٰی سورج ڈوبتے ہی آسمان دنیا کی طرف نزول رحمت فرماتا ہے کہتا ہے کہ کوئی معافی مانگنے والا ہے کہ میں اسے بخش دوں کہ کیا کوئی روزی مانگنے والا ہے کہ میں اسے روزی دوں کیا کوئی بیمار ہے کہ میں اسے آرام دوں کیا کوئی ایسا ہے کیا کوئی ایسا ہے طلوع فجر تک ۲؎(ابن ماجہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع