30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ آپ عبداﷲ ابن ابی بکر ابن محمد ابن عمر ابن حزم انصاری مدنی ہیں،آپ علمائے مدینہ میں سے تھے،ستر سال کی عمر ہوئی، ۳۵ھمیں وفات پائی۔(مرقاۃ،اکمال)انہیں حضرت شیخ نے اشعۃ اللمعات میں صدیق اکبر کا بڑا فرزند عطا فرمایا،خطا ہوگئی کہ وہ تو جنگ طائف میں شہید ہوگئے۔
۲؎ یعنی اول شب سے تراویح شروع کرتے تو سحری تک پڑھتے ہی رہتے۔سو کر پھر اٹھ کر نہیں پڑھتے تھے،اب شبینہ میں یہی ہوتاہے۔
|
1305 -[11] وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَل تدرين مَا هَذِه اللَّيْل؟» يَعْنِي لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ قَالَتْ: مَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: «فِيهَا أَنْ يُكْتَبَ كلُّ مَوْلُودٍ مِنْ بَنِي آدَمَ فِي هَذِهِ السَّنَةِ وَفِيهَا أَنْ يُكْتَبَ كُلُّ هَالِكٍ مِنْ بَنِي آدَمَ فِي هَذِهِ السَّنَةِ وَفِيهَا تُرْفَعُ أَعْمَالُهُمْ وَفِيهَا تَنْزِلُ أَرْزَاقُهُمْ». فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا بِرَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى؟ فَقَالَ: «مَا مِنْ أحد يدْخل الْجنَّة إِلَّا برحمة الله تَعَالَى» . ثَلَاثًا. قُلْتُ: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى هَامَتِهِ فَقَالَ: «وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ» . يَقُولُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعْوَات الْكَبِير |
روایت ہے حضرت عائشہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا کیا تم جانتی ہو کہ اس رات یعنی پندھوریں شعبان میں کیا ہے عرض کیا یارسول اﷲ اس میں کیا ہے تو فرمایا اس رات میں اس سال پیدا ہونے والے انسان کے بچے لکھ دیئے جاتے ہیں اور اس سال مرنے والے سارے انسان لکھ دیئے جاتے ہیں ۱؎ اور اس رات میں ان کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں اور ان کے رزق اتارے جاتے ہیں ۲؎ ا نہوں نے عرض کیا یارسول اﷲ کیا کوئی اﷲ کی رحمت کے بغیر جنت میں نہیں جائے گا تو آپ نے تین بار فرمایا کہ کوئی اﷲ تعالٰی کی رحمت کے بغیر جنت میں نہیں جاسکتا ۳؎ میں نے عرض کیا یارسول اﷲ آپ بھی نہیں تو آپ نے اپنا ہاتھ شریف اپنے سر پر رکھا اور فرمایا میں بھی نہیں مگر یہ کہ اﷲ مجھے اپنی رحمت میں چھپالے تین بار فرمایا ۴؎(بیہقی،دعوات کبیر) |
۱؎ اس طرح کہ فرشتے لوح محفوظ سے سال بھر کے ہونے والے واقعات اس رات صحیفوں میں نقل کردیتے ہیں اور ہر صحیفہ ان فرشتوں کے حوالے کرتے ہیں جن کے ذمہ یہ کام ہے۔چنانچہ مرنے والوں کی فہرست ملک الموت کو اور پیدا کرنے والوں کی فہرست بچہ بنانے والے فرشتے کو،رزقوں کی فہرست حضرت میکائیل کو دے دی جاتی ہے اسی لیئے اسے شب قدر کہتے ہیں یعنی اندازے کی رات۔اس سے معلوم ہوا کہ ان فرشتوں کو سال میں پیدا ہونے والے،مرنے والوں لوگوں کا اور گرنے والے بارش کے قطرات اور ملنے والی روزیوں کا پورا علم ہوتا ہے۔یہ علوم خمسہ ہیں جو ان فرشتوں کو دیئے گئے ہیں تو ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا پوچھنا۔
۲؎ یعنی سال بھر کے اعمال جو روزانہ صحیفوں میں لکھے جاتے رہے وہ تمام مع ٹوٹل ایک جگہ لکھ کر رب تعالٰی کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں اور اگلے سال میں جس کو جتنی روزی ملنے والی ہے،دانے،پھل،پانی کے قطرے،سانسیں وغیرہ سب کا ٹوٹل لگادیا جاتا ہے۔نزول سے مراد اس کا معین کرنا ہے۔(مرقاۃ)اس حدیث میں وہ لوگ غور کریں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب کے انکاری ہیں۔لوح محفوظ کے فرشتوں کو ذرہ ذرہ کی خبر ہے۔
۳؎ خیال رہے کہ نیک اعمال جنت ملنے کا سبب ظاہری ہیں اور اﷲ تعالٰی کی رحمت سبب حقیقی لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"تِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیۡۤ اُوۡرِثْتُمُوۡہَا بِمَا کُنۡتُمْ تَعْمَلُوۡنَ"بلکہ نیک اعمال کی توفیق اور ان کی قبولیت اﷲ کی رحمت سے ہے،عمل تخم ہیں اور رب تعالٰی کا فضل بارش اور دھوپ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع