دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

۳؎  اس طرح کہ حضرت ابی ابن کعب کو حکم دیا کہ صحابہ کو تراویح پڑھایا کریں اور صحابہ کو حکم دیا کہ ان کے پیچھے جمع ہو کر تراویح پڑھا کریں۔خیال رہے کہ فرائض کے امام خود عمر فاروق تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر فرائض اور امام پڑھائے اور تراویح دوسرا تو جائز ہے،ہاں جس نے فرض جماعت سے نہ پڑھے ہوں وہ وتر نہیں پڑھا سکتا بلکہ جماعت سے پڑھ بھی نہیں سکتا۔

۴؎ یعنی تراویح کی بیس رکعت اور باجماعت ہمیشہ اہتمام سے قائم کرنا میری ایجاد ہے اوربدعت حسنہ ہے۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ نفس تراویح سنتِ رسول اﷲ ہے مگر اس پر ہمیشگی،باجماعت اور اہتمام سے ادا کرنا سنتِ فاروقی ہے یعنی بدعت حسنہ ہے۔د وسرے یہ کہ ایجادات صحابہ شرعًا بدعت ہیں اگرچہ انہیں لغۃً سنت کہا جاتا ہے،اسی لحاظ سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَاءِالرَّاشِدِیْن" لہذا یہ دونوں حدیثیں متعارض نہیں۔تیسرے یہ کہ ہر بدعت بری نہیں،بعض اچھی بھی ہوتی ہیں،مگر فرضی قرآن کریم کے اعراب اور سیپارے حدیثوں کو کتابی شکل میں جمع کرنا بدعت ہے مگر فرض۔چوتھے یہ کہ قیامت تک تراویح کی دھوم دھام عمر فاروق کی یادگار ہے۔

۵؎ یعنی تم لوگ تراویح تو پڑھ لیتے ہو مگر تہجد چھوڑ دیتے ہو حالانکہ وہ بہت افضل ہے وہ بھی پڑھاکرو یا یہ مطلب ہے کہ میں کسی عذر کی وجہ سے تمہارے ساتھ تراویح میں شریک نہیں ہوتا مگر تہجد پڑھتا ہوں جو اس جماعت سے افضل ہے۔خیال رہے کہ تراویح کی جماعت سنت علی الکفایہ ہے۔

۶؎  اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کا عمل تراویح اول رات میں پڑھنے کا تھا۔خیال رہے کہ تراویح سو کر اٹھ کر نہ پڑھے بلکہ سونے سے پہلے پڑھے خواہ آخری رات تک پڑھتا رہے جیسا کہ شبینہ میں ہوتا ہے اور صحابہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمل کیا یا پڑھ کر سوئے۔

1302 -[8]

وَعَن السَّائِب بن يزِيد قَالَ: أَمَرَ عُمَرُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ وَتَمِيمًا الدَّارِيَّ أَنْ يَقُومَا لِلنَّاسِ فِي رَمَضَانَ بِإِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً فَكَانَ الْقَارِئُ يَقْرَأُ بِالْمِئِينَ حَتَّى كُنَّا نَعْتَمِدُ عَلَى الْعَصَا مِنْ طُولِ الْقِيَامِ فَمَا كُنَّا نَنْصَرِفُ إِلَّافِي فُرُوعِ الْفَجْرِ.رَوَاهُ مَالك

روایت ہے حضرت سائب ابن  یزیدسے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ابی کعب اورتمیم داری کو حکم دیا کہ لوگوں کو رمضان میں گیارہ رکعتیں پڑھائیں ۱؎ تو امام مئین سورتیں پڑھتا تھا حتی کہ ہم درازیٔ قیام کی وجہ سے لاٹھی پر ٹیک لگالیتے تھے تو شروع فجر سے پہلے فارغ نہ ہوتے تھے ۲؎(مالک)

۱؎ آٹھ رکعتیں تراویح اور تین وتر کبھی ابی ابن کعب  نے  پڑھائیں اور کبھی تمیم داری یا تراویح ابی ابن کعب نے پڑھائیں اور وتر تمیم داری نے۔اس حدیث سے غیر مقلد آٹھ تراویح پر دلیل پکڑتے ہیں مگر یہ ان کے بھی خلاف ہے کیونکہ وہ وتر ایک رکعت پڑھتے ہیں اور اس میں تین کا ثبوت ہے۔اس حدیث میں چند طرح گفتگو ہے:ایک یہ کہ حدیث صحیح نہیں بلکہ مضطرب ہے،اس کے راوی محمد ابن یوسف ہیں انہوں نے یہاں گیارہ کی روایت کی اورمحمد ابن نصر سے تیرہ کی،عبدالرزاق نے انہیں سے اکیس رکعتیں نقل کیں۔(فتح الباری)ابن عبدالبر نے فرمایا کہ یہ روایت وہم ہے۔صحیح یہ ہے کہ آپ نے لوگوں کو بیس رکعت کا حکم دیا۔(مرقاۃ)دوسرے یہ کہ ہوسکتاہے کہ اولًا آٹھ تراویح پڑھی گئی ہوں،پھر بارہ،پھر بیس یہ دونوں منسوخ ہوں،لہذا احادیث  میں تعارض نہیں۔اس کی پوری بحث ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ دوم میں دیکھو۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن