30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چاہیے(قرآن کریم)احادیث میں جہاں آمین سے مسجد گونجنے کا ذکر ہے وہاں نماز کا ذکر نہیں اور جہاں نماز کا ذکر ہے وہاں جہر نہیں بلکہ "مدبھا صوتہ"ہے یا"رفع بھا صوتہ" جس کے معنی ہیں آمین آواز کھینچ کر کہی۔
۴؎ خیال رہے کہ ان جیسی تمام حدیث میں موافقت سے مراد کیفیت میں موافقت ہے نہ کہ وقت میں کیونکہ فرشتوں کی آمین کہنے کا تو یہی وقت ہے جب امام ولاالضالین کہتے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین جیسی ہوگی اسکی بخشش ہوگی یعنی جیسے فرشتے آہستہ آمین کہتے ہیں ایسے یہ بھی آہستہ کہے۔
|
826 -[5] وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ فَإِذَا كَبَّرَ فكبروا وَإِذ قَالَ (غير المغضوب عَلَيْهِم وَلَا الضَّالّين)فَقُولُوا آمِينَ يُجِبْكُمُ اللَّهُ فَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قبلكُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَتِلْكَ بِتِلْكَ» قَالَ: «وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ يسمع الله لكم» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوموسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم نماز پڑھو تو صفیں سیدھی کرو پھر تم میں سے کوئی تمہارا امام بن جائے ۱؎ جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب کہے "غیر المغضوب علیہم ولا الضالین"تو تم آمین کہواﷲ تمہاری قبول کرے گا ۲؎ پھر جب تکبیر کہے اور رکوع کرے تو تم بھی تکبیر کہو اور رکوع کرو امام تم سے پہلے رکوع میں جائے گا ا ور تم سے پہلے سر اٹھائے گا حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اس کے بدلے میں ہوا ۳؎ اور جب کہے "سمع اﷲ لمن حمدہ"تو تم کہو "اللھم ربنالك الحمد" اﷲ تمہاری سنے گا ۴؎(مسلم) |
۱؎ یہ ان اصحاب سے خطاب ہے جو سب عالم و فقیہ تھے،یعنی جب تم ایسی جگہ ہو جہاں کوئی امام مقرر نہ ہو تو چونکہ تم سب علماء فقہاء ہو لہذا تم میں سے کوئی بھی امام بن جائے،لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جہاں فرمایا گیا کہ امام وہ بنے جو سب سے زیادہ عالم یا قاری ہو۔
۲؎ یعنی اس آمین کی برکت سے تمہاری الحمد والی تمام دعائیں قبول ہوں گی یا جب تم سب مل کر آمین کہو گے تو قبول ہوگی کیونکہ جماعت کی نماز و دعائیں اگر ایک کی قبول ہوجائیں تو سب کی قبول ہوتی ہے اسی لیے دعا اور عبادات کے لیئے جماعات تلاش کرتے رہو۔
۳؎یعنی تمام حرکات و سکنات میں تم امام کے پیچھے رہو کہ امام جب رکوع میں پہنچ جائے تو تم رکوع میں جھکو اور جب رکوع سے سیدھا کھڑا ہوجائے تو تم اٹھو،امام رکوع میں تم سے پہلے پہنچے گا اور تم سے پہلے اٹھے گا تو ایک لحظہ رکوع میں تم پیچھے پہنچو گے اور ایک لحظہ بعد میں اٹھو گے وہ کمی اس زیادتی سے پوری ہوکر تمہارا اور امام کا رکوع برابر ہوجائے گا،سارے ارکان کا یہی حال ہے۔
۴؎یعنی جماعت میں امام صرف "سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَہ" کہے اور مقتدی صرف "رَبَّنَا لَكَ الْحَمْد" کہے لہذا یہ حدیث احناف کی قوی دلیل ہے،بعض روایات میں صرف "رَبَّنَا لَكَ الْحَمْد"ہے،بعض میں اَللّٰھُمَّ بھی ہے،امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں مقتدی دونوں کلمے کہے یہ حدیث انکے خلاف ہے۔
|
827 -[6] وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَقَتَادَةَ: «وَإِذا قَرَأَ فأنصتوا» |
اور مسلم کی ابوہریرہ و قتادہ سے ایک روایت میں ہے کہ جب امام قرأت کرے تو تم خاموش رہو ۱؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع