30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
824 -[3] وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبا بكر وَعمر رَضِي الله عَنْهُمَا كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الصَّلَاةَ «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالمين» )رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اﷲعنہما نماز الحمدﷲ رب العلمین سے شروع کرتے تھے ۱؎ (مسلم) |
۱؎ یعنی یہ حضرات جیسے اعوذ باﷲ آہستہ کہتے تھے ایسے ہی بسم اﷲ بھی،جہرالحمدﷲ سے شروع کرتے تھے لہذا یہ حدیث احناف کی قوی دلیل ہے کہ بسم اﷲ ہر سورت کا جز نہیں یہ آہستہ پڑھی جائے،حضورصلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی"اِقْرَاۡ بِاسْمِ رَبِّکَ"آئی وہاں بسم اﷲ نہ آئی۔
|
825 -[4] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تقدم من ذَنبه) وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: " إِذَا قَالَ الْإِمَامُ: (غَيْرِ المغضوب عَلَيْهِم وَلَا الضَّالّين)فَقُولُوا: آمِينَ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ". هَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ وَلِمُسْلِمٍ نَحْوُهُ وَفِي أُخْرَى لِلْبُخَارِيِّ قَالَ: «إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غفر لَهُ مَا تقدم من ذَنبه» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوگی تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۱؎(مسلم،بخاری)اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا جب امام کہے "غیرالمغضوب علیہم ولا الضالین"تو تم کہو آمین ۲؎ جس کا کلام فرشتوں کے کلام کے موافق ہو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۳؎ یہ بخاری کے لفظ ہیں اور مسلم کے نزدیک اس کی مثل اور بخاری کی دوسری روایت میں ہے کہ فرمایا جب قاری آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں جس کی آمین موافق ہوگی فرشتوں کی آمین کے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۴؎ |
۱؎ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ نماز میں الحمد کے ختم پر امام بھی آمین کہے گا۔دوسرے یہ کہ ہماری حفاظت کرنے والے اور نامۂ اعمال لکھنے والے فرشتے نمازوں میں ہمارے ساتھ شریک ہوتے ہیں ولا الضالین پر آمین کہتے ہیں۔تیسرے یہ کہ آمین بالکل آہستہ کہنی چاہیے کیونکہ فرشتے آہستہ ہی آمین کہتے ہیں جو ہم نہیں سنتے اگر ہم آمین چیخ کر کہیں تو ہماری آمین فرشتوں کی آمین کے خلاف ہوگی پھر ہماری بخشش کیسے ہو۔چوتھے یہ کہ رب کی بارگاہ میں وہی نیکی قبول ہوتی ہے جو نیک بندوں کی طرح ہو ان کی نقل پیاری ہے۔دیکھو فرمایا گیا کہ جس کی آمین فرشتوں کی سی ہوگی اس کی مغفرت ہوگی۔
۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ مقتدی الحمد نہ پڑھے کیونکہ فرمایا گیاکہ جب امام ولا الضالین کہے تو تم آمین کہو یہ نہ فرمایا کہ جب تم ولا الضالین کہو تو آمین کہو۔لہذا یہ حدیث احناف کی دلیل ہے۔
۳؎فقیر کو آہستہ آہستہ آمین کی چھبیس۲۶ حدیثیں اور دو آیتیں ملیں مگر نماز میں بالجہر آمین کی کوئی صریح حدیث نہ ملی جس میں نماز کا ذکر ہوا اور لفظ جہر ہو۔اس کی پوری بحث فقیر کی کتاب "جاءالحق"حصہ دوم میں دیکھو۔آمین دعا ہے(قرآن کریم)اور دعا آہستہ مانگنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع