30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ یعنی میرے متعلق برے فیصلے نہ فرما اچھے فیصلے کر۔
۴؎ سبحان اﷲ! نہایت جامع دعا ہے اگر وتروں میں یہ پڑھی جائے تب بھی جائز و بہتر ہے۔
|
1274 -[21] وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ فِي الْوتر قَالَ:«سُبْحَانَكَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» رَوَاهُ أَبُودَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَزَادَ: ثَلَاث مَرَّات يُطِيل فِي آخِرهنَّ |
روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب وتر کا سلام پھیرتے تو فرماتے "سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوْس"(ابوداؤد)اور نسائی نے زیادہ کیا کہ تین بار دراز کرکے ۱؎ |
۱؎ اس طرح کہ قدوس کی دال کو خوب کھینچتے مگر آخری بار میں جیسا کہ آئندہ کلام سے معلوم ہورہا ہے۔بعض روایات میں ہے کہ اس کے بعد یہ بھی فرماتے"رَبُّنَا وَرَبُّ الْمَلَاْئِکَۃِ وَالرُّوْح"اور روح کی ر کو بھی کھینچتے جیسا کہ دار قطنی اور ابن شیبہ کی احادیث میں ہے اور مسلمانوں کا اس پر عمل ہے۔
|
1275 -[22] وَفِي رِوَايَةٍ لِلنَّسَائِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ يَقُولُ إِذَا سَلَّمَ: «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» ثَلَاثًا وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بالثالثة |
اور نسائی کی عبدالرحمن ابن ابزی کی روایت میں ہے جو انہوں نے اپنے والد سے کی فرمایا کہ جب سلام پھیرتے تو تین بار فرماتے "سبحان الملك القدوس"تیسری بار میں آواز کھینچتے ۱؎ |
۱؎ یعنی بلند آواز سے کہتے اور دراز کرتے۔اس حدیث کے ماتحت لمعات و مرقاۃ وغیرہ میں ہے کہ ذکر بالجہر بہت اعلیٰ چیز ہے بشرطیکہ ریاء سے خالی ہو کہ اس میں غافلوں کو ہوشیار کرنا ہے،سوتوں کو جگانا ہے،شیطان کو بھگانا ہے اور جہاں تک آواز پہنچے وہاں تک کے جانوروں درختوں اینٹ پتھروں کو اپنے ایمان پر گواہ بنانا ہے۔جن احادیث میں ذکر بالجہر سے ممانعت آئی ہے اس سے وہ جہر مراد ہے جس سے دوسروں کو تکلیف ہو یا ذاکر میں ریا ہو۔خیال رہے کہ بعض ذکروں میں جہر شرط ہے جیسا اذان تلبیہ اور بقرعید کے زمانہ میں نمازوں کے بعد تکبیر تشریق وغیرہ۔
|
1276 -[23] وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وَتْرِهِ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ من سخطك وبمعافاتك من عُقُوبَتك وَأَعُوذ بك مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ |
روایت ہے حضرت علی سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آخری وتر میں فرماتے ۱؎ الٰہی میں تیری ناراضی سے تیری رضا کی اور تیری سزا سے تیری عافیت کی پناہ مانگتا ہوں،تیری تجھ سے پناہ مانگتا ہوں۲؎ تیری حمد میں نہیں کرسکتا تو ایسا ہی ہے جیسی تو نے خود اپنی احمد کی۳؎(ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ) |
۱؎ یعنی وتر سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا پڑھتے،بعض نے فرمایا کہ آخری التحیات میں سلام سے پہلے بعض کے نزدیک آخری سجدہ میں،امام احمد ابن حنبل کے نزدیک تیسری رکعت کے قومہ میں یعنی رکوع سے اٹھ کر۔چنانچہ ان کے ہاں اس وقت یہ دعا پڑھی جاتی ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع