دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

۱؎ آپ صحابی،قرشی،بڑے بہادر جنگجو مجاہد ہیں،قریش کے سواروں میں آپ کو ایک ہزار سواروں کے برابر مانا جاتا تھا،ایک بار حضرت عمرو ابن عاص نے حضرت عمر سے تین ہزار سواروں کی کمک مانگی تو آپ نے تین شخص بھیجے حضرت خارجہ،زبیر ابن عوام مقداد ابن اسود رضی اللہ عنہم،آپ   ۴۰ھ؁  میں خوارج کے ہاتھوں عمرو ابن عاص کے دھوکہ میں قتل ہوئے کہ خوارج نے امیر معاویہ،علی مرتضی،عمرو  ابن عاص کے قتل کی سازش کی تھی تو علی مرتضیٰ شہید کردیئے گئے،عمرو ابن عاص کے دھوکہ میں آپ شہید کردیئے گئے او ر امیر معاویہ بچ گئے۔

 ۲؎ یعنی نماز پنجگانہ کے علاوہ تمہیں نماز  وتر اور دی جوان نمازوں کا تمتہ اور تکملہ ہے اور تمہارے لیئے دنیا کی تمام چیزوں حتی کہ سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ بہتر ہے۔اہل عرب سرخ اونٹ کو جان سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ وتر واجب ہیں اَمَدَّکُم کے ایک معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ رب نے تمہیں ایک نماز یعنی وتر ا ور بھی زیادہ دی۔

۳؎ یعنی وتر کا وقت عشاء کا وقت ہے مگر اس کے لیئے شرط ہے کہ عشاء کے فرض کے بعد پڑھی جائے۔خیال رہے کہ بعض محدثین نے اس حدیث کو ضعیف کہا لیکن حاکم اور ابن سکن نے اس کی تصحیح کی ہے،ترمذی نے اسے غریب فرمایا مگر یہ ضعیف یا غرابت امام ابوحنیفہ کو مضر نہیں کیونکہ یہ چیزیں امام صاحب کے بعد پیدا ہوئیں،بہرحال حدیث صحیح اور اس سے وتر کا وجوب ثابت ہے۔

1268 -[15]

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ نَامَ عَنْ وَتْرِهِ فَلْيُصَلِّ إِذَا أَصْبَحَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مُرْسلا

روایت ہے حضرت زید ابن اسلم سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو وتر کے بغیر سوجائے وہ صبح ہونے پر پڑھ لے ۱؎(ترمذی مرسلًا)

۱؎ یعنی اگر عشاء پڑھ لی ہو تہجد کے وقت آنکھ نہ کھلے تو صبح کے بعد نماز فجر سے پہلے وتر قضاء کرے،پھر فجر پڑھے،صاحب ترتیب کے لیئے وتر پہلے پڑھنا فرض ہے دوسرے کے لیئے بہتر۔اس سے معلوم ہوا کہ وتر محض سنت نہیں بلکہ واجب ہیں کہ صرف سنتوں کی قضا نہیں پڑھی جاتی،یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے اگرچہ مرسل ہے کیونکہ زید ا بن اسلم تابعی ہیں،عمر فاروق کے غلام ہیں مگر چونکہ آپ بڑے ثقہ عالم فقیہ تھے،آپ کی مجلس علم میں چالیس سے زیادہ فقہاء بیٹھتے تھے حتی کہ امام زین العابدین بھی آپ کے شاگرد ہیں اور امام مالک، سفیان ثوری وغیرہ محدثین کے آپ شیخ ہیں اس لیئے آپ کی مرسل یقینًا قبول ہے۔(از اشعۃ اللمعات)آپ کی وفات   ۱۳۶ ؁ہجری میں ہوئی۔

1269 -[16]

وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: سَأَلْنَا عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: كَانَ يَقْرَأُ فِي الْأُولَى(سَبِّحِ اسْم رَبك الْأَعْلَى)وَفِي الثَّانِيَةِ(قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ)وَفَى الثَّالِثَةِ (قُلْ هُوَ اللَّهُ أحد)والمعوذتين وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت عبدالعزیز ابن جریج سے فرماتے ہیں ہم نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کن سورتوں سے وتر پڑھتے تھے فرمایا پہلی رکعت میں"سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی"دوسری میں "قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ"اور تیسری میں"قُلْ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ"اور فلق والناس سے ۱؎ (ترمذی،ابوداؤد)

۱؎  یعنی تیسری رکعت میں یہ تینوں سورتیں پڑھتے تھے۔خیال رہے کہ یہ حدیث امام اعظم نے اپنی مسند میں یوں نقل کی ہے "عَنْ حَمَّادٍ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ عَنْ اَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ صِدِّیْقَۃَ"۔اس میں صرف قُلْ ھُوَ اﷲُ کا ذکر ہے اور حاکم نے بشرط مسلم،بخاری

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن