30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1265 -[12] وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَتْرُ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلَاثٍ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيَفْعَلْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت ابو ایوب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر مسلمان پر وتر لازم ہیں ۱؎ جو پانچ وتر پڑھنا چاہے وہ پانچ پڑھے ۲؎ جو تین پڑھنا چاہے وہ ایسا ہی کرے ۳؎ جو ایک پڑھنا چاہے وہ ایسا ہی کرے ۴؎ (ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ) |
۱؎ یہ جملہ امام اعظم کی دلیل ہے کہ وتر واجب ہے جس کے چھوڑنے کا اختیار نہیں،اس کی تائید اور احادیث سے بھی ہوتی ہے جو آیندہ آرہی ہے۔
۲؎ اس طرح کہ دو رکعت تہجد اور تین رکعت وتر۔
۳؎ اس طرح کہ تہجد نہ پڑھے صرف وتر ہی تین رکعت پڑھے۔
۴؎ یہ جملہ ہمارے مخالفین کے بھی خلاف ہے کیونکہ ایک رکعت وتر پڑھنے والے یہ نہیں کہتے کہ ایک پڑھے یا تین یا پانچ وہ ایک ہی کو واجب کہتے ہیں اور حدیث سے اختیار ثابت ہورہا ہے لہذا یہ جملہ تین والی احادیث کے مخالف ہے اور ناقابل عمل۔خیال رہے کہ یہاں اس جملہ کے یہ معنی نہیں ہوسکتے کہ ایک رکعت دو سے ملا کر وتر بناؤ کیونکہ یہ صورت تو پہلے بیان ہوچکی۔
|
1266 -[13] وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ وَتْرٌ يُحِبُّ الْوَتْرَ فَأَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ وتر ہے ۱؎ وتر کو پسند فرماتا ہے ۲؎ تو اے قرآن والو وتر پڑھا کرو۳؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی) |
۱؎ عربی میں وتر فرد عدد کو کہتے ہیں جو تقسیم نہ ہوسکے اکیلا ہو،رب تعالٰی عدد سے پاک ہے۔اس کے وتر ہونے کے یہ معنی ہیں کہ وہ ذات و صفات اور افعال میں اکیلا ہے،نہ اس کا کوئی شریک ہے،نہ اس کے صفات افعال قابل تقسیم،اسی معنی سے اسے واحد اور احد کہتے ہیں لہذا حدیث پر اعتراض نہیں کہ وتر و شفع ہونا عدد کے حالات ہیں اﷲ تعالٰی عدد سے پاک ہے۔
۲؎ وتر نماز کو پسند کرتا ہے کہ وتر ہونے میں اسے رب تعالٰی سے نسبت ہے،لہذا اس پر ثواب دے گا یا اس شخص کو پسند کرتا ہے جو دنیا سے اکیلا ہو کر رب کا ہو رہے جب رب تمہارا ہے تو تم بھی رب کے ہوجاؤ۔(ازمرقات)
۳؎ یعنی اے قرآن ماننے والو مسلمانو! نماز وتر پڑھا کرو اس پر بہت ثواب ہے یا اے قرآن ماننے والو دنیا سے منقطع ہو کر رب کے ہو رہو۔بعض لوگوں نے اس حدیث کی بنا پر کہا کہ وتر ایک رکعت ہے کیونکہ یہاں وتر کو اﷲ تعالٰی سے نسبت دی گئی اﷲ تو ایک ہے وتر بھی ایک ہونی چاہیے مگر یہ بات بہت کمزور ہے کیونکہ یہاں مناسبت صرف وتر یعنی طاق ہونے میں ہے اور طاق تو تین بھی ہیں ایک ہونے میں نسبت نہیں،ورنہ رب تعالٰی اجزا سے پاک ہے اور وتر نماز اگرچہ ایک رکعت ہی ہواجزا والی ہے۔
|
1267 -[14] وَعَن خَارِجَة بن حذافة قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ أَمَدَّكُمْ بِصَلَاةٍ هِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمْرِ النِّعَمِ: الْوَتْرُ جَعَلَهُ اللَّهُ لَكُمْ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت خارجہ ابن حذافہ سے فرماتے ہیں ہمارے پاس رسو ل اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ اﷲ نے ایک نماز سے تمہاری مدد فرمائی ۱؎ جو تمہارے لیئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے ۲؎(وتر)اسے اﷲ نے تمہارے لیئے نماز عشاء و طلوع فجر کے درمیان ر کھا ہے ۳؎(ترمذی،ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع