30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1263 -[10] عَن غُضَيْف بن الْحَارِث قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ أَمْ فِي آخِرِهِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي آخِرِهِ قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً قُلْتُ: كَانَ يُوتِرُ أَوَّلَ اللَّيْلِ أَمْ فِي آخِرِهِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا أَوْتَرَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا أَوْتَرَ فِي آخِرِهِ قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً قُلْتُ: كَانَ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ أَمْ يَخْفُتُ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا جَهَرَ بِهِ وَرُبَّمَا خَفَتَ قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ الْفَصْلَ الْأَخِيرَ |
روایت ہے حضرت غضیف ابن حارث سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ سے عرض کیا کہ فرمایئے تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت اول شب میں کرتے تھے یا آخر میں فرمایا اکثر اول شب میں غسل کرتے تھے اور اکثر آخر میں ۲؎ میں نے کہا اﷲ اکبر خدا کا شکر ہے اس کام میں گنجائش رکھی میں نے عرض کیا کہ اول رات میں وتر پڑھتے تھے یا آخر میں فرمایا بارہا اول رات میں وتر پڑھتے تھے بار ہا آخر میں ۳؎ میں نے کہا اﷲ اکبر خدا کا شکر ہے جس نے اس معاملہ میں گنجائش دی میں نے عرض کیا کہ بلند قرأت کرتے تھے یا آہستہ فرمایا بارہا بلند کرتے تھے بارہا آہستہ ۴؎ میں نے کہا اﷲ اکبر خدا کا شکر ہے جس نے اس میں گنجائش دی۔(ابو داؤد)اور ابن ماجہ نے آخری بات روایت کی۔ |
۱؎ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ شریف پایا مگر صحبت پاک پانے میں اختلاف ہے،اسی لیئے بعض محدثین نے آپ کو صحابی کہا ہے اور بعض نے تابعی۔
۲؎ یہ اکثریت اضافی نہیں بلکہ حقیقی ہے یعنی اول شب میں غسل کرلینا بھی بارہا تھا اور آخر میں بھی یعنی یہ بھی جائز ہے کہ جنبی ہوتے ہی غسل کرے اور یہ بھی کہ رات بھر جنابت میں گزارے تہجد یا صبح کے وقت غسل کرلے مگر ایسی صورت میں مستحب یہ ہے کہ وضو کرکے سوئے۔
۳؎ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا اول شب میں وتر پڑھنا بیان جواز کے لیئے تھا اور آخر شب میں وتر پڑھنا بھی بیان جواز کے لیئے،اول شب میں وتر پڑھنے کی وجہ یہ نہ تھی کہ آپ کو اپنے جاگنے پر بھروسہ نہ تھا بلکہ امت کی آسانی کے لیئے۔
۴؎ یعنی تہجد میں۔علماء فرماتے ہیں کہ جہاں لوگوں کو تہجد کے لیئے اٹھانا ہو وہاں قدرے بلند قرأت کرے اور جہاں سونے والوں کو تکلیف سے بچانا مقصود ہو وہاں آہستہ کرے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خوشی کے موقع پر نعرہ تکبیر لگانا اور سبحان اﷲ وغیرہ کہنا سنت صحابہ ہے۔
|
1264 -[11] وَعَن عبد الله بن أبي قيس قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: بِكَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ؟ قَالَتْ: كَانَ يُوتِرُ بِأَرْبَعٍ وَثَلَاثٍ وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ وَثَمَانٍ وَثَلَاثٍ وَعَشْرٍ وَثَلَاثٍ وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِأَنْقَصَ مِنْ سَبْعٍ وَلَابِأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاث عشرَة.رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن ابی قیس سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کتنے وتر پڑھتے تھے فرمایا چار اور تین،چھ اور تین،آٹھ اور تین،دس اور تین پڑھتے تھے ۲؎ سات سے کم نہ پڑھتے تھے اور تیرہ سے زیادہ نہ پڑھتے۳؎(ابوداؤد) |
۱؎ عجیب لطف ہے کہ آپ کو مرقاۃ نے تابعی لکھا اور اشعہ اللمعات میں فرمایا کہ یہ حضرت ابو موسیٰ اشعری کا نام ہے جو جلیل القدر صحابی ہیں یہ اپنی کنیت میں مشہور ہوگئے۔
۲؎ یہ حدیث گزشتہ حدیث کی تفسیر ہے جس میں حضرت عائشہ صدیقہ نے فرمایا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سات وتر اور دو نفل پڑھتے تھے۔اس حدیث نے بتایا کہ وہاں بھی یہی مراد تھی کہ چار رکعت تہجد اور تین رکعت وتر۔
۳؎ یعنی تہجد کم سےکم چار رکعت پڑھتے تھے اور زیادہ سے زیادہ دس رکعت یہ آپ کے علم کے لحاظ سے ہے ورنہ دو رکعت بھی تہجد ثابت ہے اور بارہ رکعت بھی۔
|
1265 -[12] وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَتْرُ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلَاثٍ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيَفْعَلْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت ابو ایوب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر مسلمان پر وتر لازم ہیں ۱؎ جو پانچ وتر پڑھنا چاہے وہ پانچ پڑھے ۲؎ جو تین پڑھنا چاہے وہ ایسا ہی کرے ۳؎ جو ایک پڑھنا چاہے وہ ایسا ہی کرے ۴؎ (ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع