دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

1257 -[4]

وَعَن سعد بن هِشَام قَالَ انْطَلَقْتُ إِلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قُلْتُ: بَلَى. قَالَتْ: فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ. قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ وَتْرِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ مَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهَا إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ فَيُصَلِّي التَّاسِعَةَ ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ وَهُوَ قَاعد فَتلك إِحْدَى عشرَة رَكْعَة يابني فَلَمَّا أَسَنَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَنَعَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِثْلَ صَنِيعِهِ فِي الْأُولَى فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا وَكَانَ إِذَا غَلَبَهُ نَوْمٌ أَوْ وَجَعٌ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً وَلَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ وَلَا صَلَّى لَيْلَةً إِلَى الصُّبْحِ وَلَا صَامَ شهرا كَامِلا غير رَمَضَان. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابن ہشام ۱؎ سے فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ کے پاس گیا عرض کیا اے ام المؤمنین مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی خبر دیجئے آپ نے فرمایا کہ کیا تم قرآن نہیں پڑھتے میں نے کہا ہاں بولیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن تھا۲؎  میں نے عرض کیا اے ام المؤمنین مجھے رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کی خبر دیجئے فرمایا ہم آپ کی مسواک اور طہارت کا پانی تیار کردیتے تھے ۳؎ تو رات میں جب اﷲ چاہتا انہیں اٹھاتا تو آپ مسواک کرتے اور وضو کرتے اور نو رکعتیں پڑھتے جن میں آٹھویں کے سوا کہیں نہ بیٹھتے ۴؎ پھر اﷲ کا ذکر کرتے اور اس کی حمد کرتے اس سے دعا مانگتے پھر بغیر سلام پھیرے کھڑے ہوتے ۵؎ تو نویں رکعت پڑھ لیتے پھر بیٹھتے  پھر اﷲ کا ذکر کرتے اور اس کی حمد کرتے اور اس سے دعا مانگتے پھر اس طرح سلام پھیرتے کہ ہمیں سنا دیتے پھر سلام کے بعد  دو  رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے اے بچے یہ گیارہ رکعتیں ہوئیں ۶؎ پھر جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سن رسیدہ اور کمزور ہوگئے تو سات رکعتیں وتر پڑھنے لگے ۷؎ اور  دو رکعتوں میں پہلی رکعتوں کا سا عمل کرتے ۸؎ اے بچے یہ نو ہوئیں اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو اس پر ہمیشگی کو پسند فرماتے اور جب آپ کو نیند یا تکلیف رات کو اٹھنے سے مانع ہوتی تو دن میں بارہ رکعتیں پڑھ لیتے ۹؎ اور مجھے خبر نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا قرآن ایک رات میں پڑھا ہو اور نہ یہ کہ ساری رات صبح تک نماز پڑھی ہو اور نہ یہ کہ رمضان کے سوا کسی مہینے کا پورا روزہ رکھا ہو ۱۰؎(مسلم)

۱؎ آپ انصاری ہیں،تابعی ہیں،حضرت انس ابن مالک کے چچا زاد بھائی ہیں،غزوہ ہند میں شریک ہوئے اور مکران میں شہید ہوئے،خواجہ حسن بصری نے آپ سے روایات لیں۔(اشعہ)

۲؎ یعنی قرآن کریم پر عمل آپ کی جبلی عادات کریمہ تھیں،یہ خاموش قرآن ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم بولتا ہوا قرآن،آپ کا ہر عمل قرآن کریم کی تفسیر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بچپن شریف سے ہی قدرتی طور پر قرآن پر عامل تھے،قرآن ہماری ہدایت کے لیئے آیا نہ کہ حضور کی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ اسی لیئے فرمایا گیا"ہُدًی لِّلنَّاسِ"اور فرمایا " ہُدًی لِّلْمُتَّقِیۡنَ" قرآن لوگوں کا یا متقین کا ہادی ہے نہ کہ آپ کا،آپ تو اول ہی سے ہدایت یافتہ ہیں صلی اللہ علیہ وسلم۔

۳؎ یعنی ہم  حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی مسواک اور وضو کا پانی آپ کے سرہانے اول رات ہی میں رکھ دیتے تھے۔معلوم ہوا کہ یہ دونوں چیزیں سرہانے رکھ کر سونا سنت ہے اور یہ خدمت بیوی کے ذمہ ہے۔

۴؎ نہ سلام کے لیئے نہ التحیات کے لیئے بلکہ مسلسل آٹھ رکعتیں پڑھتے جیسا کہ اگلی عبارت سے معلوم ہورہا ہے ۔

۵؎ یعنی آٹھویں رکعت پر بیٹھتے تو مگر التحیات وغیرہ پڑھنے کے لیئے نہ کہ سلام پھیرنے کے لیئے۔خیال رہے کہ ام المؤمنین نے یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری تہجد بیان فرمائی نہ کہ صرف وتر اور یہ حدیث بالاتفاق منسوخ ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پہلا عمل تھا اب کسی کے نزدیک وتر تہجد سے ملا کر پڑھنا جائز نہیں اور کسی کے ہاں آٹھ رکعتیں  مسلسل پڑھنا درست نہیں اگر آٹھ کی نیت باندھے تو ہر دو رکعت میں بیٹھنا اور التحیات پڑھنا واجب ہے لہذا یہ حدیث عائشہ صدیقہ کی تین رکعت والی وتر کی حدیث کے خلاف نہیں کہ یہاں پہلے عمل کا ذکر ہے اور وہاں آخری کا۔

۶؎ اس سے معلوم ہوا کہ وتر کے بعد دو نفل پڑھنا مستحب ہے کھڑے ہو کر پڑھنا ثواب کی زیادتی کا باعث ہے اور بیٹھ کر قرب زیادہ کیونکہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل شریف ہے۔وہ جو حدیث شریف میں آیا کہ رات میں وتر کو آخری نماز بناؤ وہاں تہجد سے مراد  آخر ہے یعنی تہجد پہلے پڑھو وتر بعد میں یہ دو نفل تہجد نہیں۔

۷؎  اس طرح کہ چار رکعت تہجد اور تین رکعت و تر علیحدہ تحریمہ اور سلام سے جیسا کہ آگے انہیں کی روایت میں آرہا ہے۔اس جملہ سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا والا عمل بالکل منسوخ ہے۔

۸؎ یعنی آخر عمر شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تہجد و وتر میں تو تبدیلی واقع ہوگئی مگر وتر کے بعد نفلوں میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی اسی طرح بیٹھ کر پڑھتے رہے اولیٰ سے مراد پہلی حالت ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن