30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نماز ایک رکعت نہیں یا دو رکعت ہیں یا چار یا تین،و تر دو یاچار رکعت تو ہو نہیں سکتی لہذا صرف تین ہی ہوگی،آخری رات فرما کر یہ بتایا کہ وتر کا وقت مستحب آخر شب ہے۔
|
1256 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْ ذَلِكَ بِخَمْسٍ لَا يَجْلِسُ فِي شَيْء إِلَّا فِي آخرهَا " |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے ان میں سے پانچ رکعت وتر پڑھتے جن میں آخر کے سوا کہیں نہ بیٹھتے ۱؎(مسلم، بخاری) |
۱؎ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم شب میں آٹھ رکعت تہجد اور پانچ رکعت وتر پڑھتے تھے، اس طرح کہ ان پانچ رکعتوں میں درمیان میں سلام کے لیئے نہ بیٹھتے بلکہ سلام آخر میں ایک بار پھیرتے تھے،یہاں بیٹھنے سے مراد سلام کے لیئے بیٹھنا ہے نہ کہ التحیات کے لیئے بیٹھنا کیونکہ ہر وقت نماز میں ہر دو رکعت پر بیٹھنا التحیات پڑھنا تمام آئمہ کے ہاں واجب ہے۔خیال رہے کہ پانچ رکعت وتر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا فعل شریف تھا جو بعد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑ دیا۔چنانچہ ان ہی عائشہ صدیقہ کی روایات اسی باب میں تین رکعت وتر کی آرہی ہے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل ہے جو اس عمل کا ناسخ ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔
|
1257 -[4] وَعَن سعد بن هِشَام قَالَ انْطَلَقْتُ إِلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قُلْتُ: بَلَى. قَالَتْ: فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ. قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ وَتْرِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ مَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهَا إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ فَيُصَلِّي التَّاسِعَةَ ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ وَهُوَ قَاعد فَتلك إِحْدَى عشرَة رَكْعَة يابني فَلَمَّا أَسَنَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَنَعَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِثْلَ صَنِيعِهِ فِي الْأُولَى فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا وَكَانَ إِذَا غَلَبَهُ نَوْمٌ أَوْ وَجَعٌ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً وَلَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ وَلَا صَلَّى لَيْلَةً إِلَى الصُّبْحِ وَلَا صَامَ شهرا كَامِلا غير رَمَضَان. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابن ہشام ۱؎ سے فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ کے پاس گیا عرض کیا اے ام المؤمنین مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی خبر دیجئے آپ نے فرمایا کہ کیا تم قرآن نہیں پڑھتے میں نے کہا ہاں بولیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن تھا۲؎ میں نے عرض کیا اے ام المؤمنین مجھے رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کی خبر دیجئے فرمایا ہم آپ کی مسواک اور طہارت کا پانی تیار کردیتے تھے ۳؎ تو رات میں جب اﷲ چاہتا انہیں اٹھاتا تو آپ مسواک کرتے اور وضو کرتے اور نو رکعتیں پڑھتے جن میں آٹھویں کے سوا کہیں نہ بیٹھتے ۴؎ پھر اﷲ کا ذکر کرتے اور اس کی حمد کرتے اس سے دعا مانگتے پھر بغیر سلام پھیرے کھڑے ہوتے ۵؎ تو نویں رکعت پڑھ لیتے پھر بیٹھتے پھر اﷲ کا ذکر کرتے اور اس کی حمد کرتے اور اس سے دعا مانگتے پھر اس طرح سلام پھیرتے کہ ہمیں سنا دیتے پھر سلام کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے اے بچے یہ گیارہ رکعتیں ہوئیں ۶؎ پھر جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سن رسیدہ اور کمزور ہوگئے تو سات رکعتیں وتر پڑھنے لگے ۷؎ اور دو رکعتوں میں پہلی رکعتوں کا سا عمل کرتے ۸؎ اے بچے یہ نو ہوئیں اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو اس پر ہمیشگی کو پسند فرماتے اور جب آپ کو نیند یا تکلیف رات کو اٹھنے سے مانع ہوتی تو دن میں بارہ رکعتیں پڑھ لیتے ۹؎ اور مجھے خبر نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا قرآن ایک رات میں پڑھا ہو اور نہ یہ کہ ساری رات صبح تک نماز پڑھی ہو اور نہ یہ کہ رمضان کے سوا کسی مہینے کا پورا روزہ رکھا ہو ۱۰؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع