دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

باب الوتر

وتر کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ وتر کے لغوی معنی ہیں طاق عدد جفت یعنی شفع کا مقابل ،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِ"۔شریعت میں وتر خاص نماز کا نام ہے جو عشاء کے بعدمتصل یا تہجد کے ساتھ پڑھی جاتی ہے۔وتر میں علماء کے پانچ اختلاف ہیں:ایک یہ کہ وتر سنت ہیں یا واجب؟ہمارے ہاں واجب ہیں۔دوسرے یہ کہ وتر ایک رکعت ہے یا تین؟ہمارے ہاں تین رکعت۔تیسرے یہ کہ اگر تین رکعت ہے تو دو سلام سے یا ایک سلام سے؟ہمارے ہاں ایک سلام سے ہے۔چوتھے یہ کہ  وتر میں دعائے قنوت ہمیشہ پڑھی جائے گی یا صرف رمضان کے آخری پندرہ دن میں؟ہمارے ہاں ہمیشہ پڑھی جائے گی۔خیال رہے کہ اس باب میں وتر کبھی صرف اس ایک رکعت کو کہا جائے گا جو وتر کے آخر میں ہوتی ہے،کبھی پوری تین رکعتوں،کبھی پوری تہجد کو، جہاں ارشاد ہوگا کہ وتر سات یا نو یا گیارہ رکعتیں پڑھیں وہاں پوری تہجد مراد ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں وتر کی پوری بحث ہماری کتاب "جاء الحق"حصہ دوم میں مطالعہ فرماؤ۔یہاں بھی احادیث کی شرح میں کچھ عرض کیا جائے گا۔ان شاءاﷲ!

1254 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَة توتر لَهُ مَا قد صلى»

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ رات کی نماز دو دور رکعتیں ہیں ۱؎ پھر  جب تم میں سے کوئی صبح کا خوف کرے۲؎ تو ایک رکعت اور پڑھ لے جو اس کی پڑھی ہوئی نماز کو طاق بنادے گی۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی بہتر یہ ہے کہ نماز تہجد دو۲دو۲ رکعتیں پڑھے،چار چار یا زیادہ کی نیت نہ باندھے یہ حدیث صاحبین اور امام شافعی کی دلیل ہے کہ رات کے نوافل دو دو کرکے پڑھنا افضل ہے۔

۲؎ یعنی تہجد پڑھنے والے وتر تہجد کے بعد پڑھیں مگر صبح صادق سے پہلے پہلے پڑھ لیں۔اس حدیث میں اشارۃً ارشاد ہوا کہ تہجد کی نماز دراز پڑھے حتی کہ صبح کے وقت ختم کرے۔

۳؎  اس کے معنے یہ ہیں کہ ایک رکعت دو رکعتوں کے ساتھ پڑھے یہ ایک رکعت تمام نماز کو طاق بنادے گی یہ مطلب نہیں کہ علیحدہ ایک رکعت پڑھے ورنہ یہ حدیث تین رکعت والی احادیث کے خلاف ہوگی جو آگے آرہی ہیں اور احادیث میں سخت تعارض ہوگا  لہذا یہ حدیث ا حناف کے خلاف نہیں۔

1255 -[2]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخر اللَّيْل» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ وتر آخری رات میں ایک رکعت ہے ۱؎(مسلم)

۱؎ یہاں وتر لغوی معنے میں ہے یعنی ساری تہجد کو وتر(طاق)بنانے والی وہ ایک رکعت ہے جو دو کے ساتھ ملادی جائے یہ مطلب نہیں کہ وتر کی ایک ہی رکعت ہوتی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بُتَیْرَا یعنی ناقص نماز سے منع فرمایا، ایک رکعت ناقص ہی ہے،نیز کوئی فرض

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن