دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

باب صلوۃ اللیل

رات کی نماز کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ رات کی نماز سے تہجد مراد ہے۔یہ نماز اسلام میں اولًا سب پر فرض رہی،پھر امت سے فرضیت منسوخ ہوگئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر آخر تک رہی۔(اشعہ)تہجد کم از کم دو رکعتیں ہیں زیادہ سے زیادہ بارہ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم اکثر آٹھ پڑھتے تھے کبھی کم و بیش۔حق یہ ہے کہ تہجد ہمارے لیئے سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے کہ اگر بستی میں کوئی نہ پڑھے تو سب تارک سنت ہوئے اور اگر ایک بھی پڑ ھ لے تو سب بری الذمہ ہوئے۔تہجد کا وقت رات میں سو کر جاگنے سے شروع ہوتا ہے صبح صادق پر ختم مگر آخری تہائی رات میں پڑھنا بہتر ہے اور قبل تہجد عشا پڑھ کر سونا شرط ہے ا وربعد تہجد کچھ سونا یا لیٹ جانا سنت ہے۔چونکہ یہ بہترین نوافل ہیں اسی لیئے ان کا علیٰحدہ باب ہوا جو شخص تہجد پڑھنا شروع کردے پھر نہ چھوڑے یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ناپسند ہے۔

ضروری مسئلہ:تہجد سے پہلے سو لینا ضروری ہے اگر کوئی بالکل نہ سویا تو اس کے نوافل تہجد نہ ہوں گے۔جن بزرگوں سے منقول ہے  کہ انہوں نے تیس یا چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی جیسے حضور غوث اعظم یا امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہما وہ حضرات رات میں اس قدر اونگھ لیتے تھے جس سے تہجد درست ہوجائے لہذا ان بزرگوں پر یہ اعتراض نہیں کہ انہوں نے تہجد کیوں نہ پڑھی حضرت ابوالدرداء ،ابوذرغفاری وغیرہم صحابہ جو شب بیدار تھے ان کا بھی یہی عمل تھا۔

1188 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيمَا بَين أَن يفرغ من صَلَاة الْعشَاء إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُسَلِّمُ مِنْ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ فَيَسْجُدُ السَّجْدَةَ مِنْ ذَلِكَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيهِ الْمُؤَذّن للإقامة فَيخرج

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز سے فارغ ہونے سے فجر تک گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ۱؎ کہ ہر دو رکعتوں میں سلام پھیرتے تھے ۲؎ اور ایک رکعت سے وتر بناتے تھے ۳؎ اس کا ایک سجدہ اس قدر دراز کرتے کہ تم میں سے کوئی پچاس آیتیں پڑھ لے اپنا سر اٹھانے سے پہلے پھر جب نماز فجر کا مؤذن خاموش ہوتا اور صبح چمک جاتی اور فجر ظاہر ہوجاتی تو پھر دو ہلکی رکعتیں  پڑھتے۴؎ پھر اپنی داہنی کروٹ پر لیٹ جاتے حتی کہ آپ کے پاس تکبیر کی اجازت لینے مؤذن آتا تو تشریف لے جاتے۵؎(مسلم،بخاری)

۱؎ اس طرح کی آٹھ رکعت تہجد پڑھتے تھے تین رکعت و تر۔خیال رہے کہ بغیر عشاء پڑھے تہجد نہیں ہوسکتی۔

۲؎  اس آخری جملہ سے بہت لوگوں نے ٹھوکر کھائی ہے،بعض نے اس کے یہ معنی کیئے دس رکعتیں تہجد پڑھی ہر دو رکعت پر سلام اور ایک رکعت وتر پڑھی مگر اس بناء پر یہ روایت ان تمام روایات کے خلاف ہوگی جن میں تین رکعت وتر کی تصریح ہے یا جن میں یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر کی رکعت اول میں سورۂ اعلیٰ پڑھی دوسری میں "قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ"،تیسری میں "قُلْ ہُوَاللہُ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن