30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی بطور سزا قمچیاں لگاتے تھے تاکہ لوگ اس سے باز آجائیں۔خیال رہے کہ یہاں بعد عصر سے مراد نماز مغرب سے پہلے نفل بھی ہیں جیسا کہ اگلے مضمون سے معلوم ہورہا ہے۔
۳؎ یہ ہے فاروق اعظم کی شکایت کہ ہم حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ نفل پڑھتے تھے اور فاروق اعظم ان پر مارتے تھے آپ نے ہم کو ایک سنت صحابہ سے روک دیا مگر یہ شکایت درست نہیں کیونکہ آپ کو اس کے نسخ کی خبر نہ ہوئی حضرت عمر فاروق کو نسخ کا علم تھا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مغرب سے پہلے نفل مکروہ ہیں۔
۴؎ یہ نماز سنت تقریری تھی۔
|
1180 -[22] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنَّا بِالْمَدِينَةِ فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ لِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ ابْتَدَرُوا السَّوَارِيَ فَرَكَعُوا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ الْغَرِيبَ لَيَدْخُلُ الْمَسْجِدَ فَيَحْسَبُ أَنَّ الصَّلَاةَ قَدْ صُلِّيَتْ مِنْ كَثْرَةِ مَنْ يُصَلِّيهمَا. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ میں تھے تو جب مؤذن نماز مغرب کی اذان دیتا تو لوگ ستونوں کی طرف بھاگتے پھر دو رکعتیں پڑھتے حتی کہ اجنبی آدمی مسجد میں آتا تو سمجھتا کہ نماز پڑھ لی گئی ان پڑھنے والوں کے ہجوم کی وجہ سے ۱؎ (مسلم) |
۱؎ اس کی شرح و تحقیق پہلے ہوچکی کہ صحابہ کا یہ عمل شروع اسلام میں تھا پھر جب مغر ب میں جلدی کا حکم دیا گیا تو یہ نفل چھوٹ گئے مگر بعض کو ان کے نسخ کی خبر نہ ہوئی اور اس زمانہ میں بھی یہ عمل دائمی نہ تھا بلکہ شاذو نادر۔مرقاۃ نے فرمایا کہ سارے خلفائے راشدین اس کے نسخ پر متفق ہیں۔خیال رہے کہ امام مالک وغیرہم فقہا کے نزدیک وقت مغرب بقدر ادائے نماز ہے، ان کے ہاں تو یہ نفل مطلقًا ناجائز ہوں گے کہ ان سے وقت مغرب نکل جائے گا۔
|
1181 -[23] وَعَن مرْثَد بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: أَتَيْتُ عُقْبَةَ الْجُهَنِيَّ فَقُلْتُ: أَلَا أُعَجِّبُكَ مِنْ أَبِي تَمِيمٍ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ؟ فَقَالَ عُقْبَةُ: إِنَّا كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قُلْتُ: فَمَا يَمْنَعُكَ الْآنَ؟ قَالَ: الشّغل. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت مرثد ابن عبداﷲ سے فرماتے ہیں کہ میں عقبہ جہنی کے پاس حاضر ہوا ۱؎ میں نے عرض کیا کہ کیا میں ابوتمیم کی عجیب بات آپ کو نہ سناؤں وہ تو مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے ۲؎ تو عقبہ بولے کہ یہ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم بھی کرتے تھے میں نے عرض کیا کہ اب آپ کو کون شئے مانع ہے فرمایا مشغولیت ۳؎(بخاری) |
۱؎ آپ تابعی ہیں،مصر کے مفتی ہیں اور عبدالعزیز ابن مروان یعنی عبدالملک ابن مروا ن کا بھائی آپ کے فتویٰ پر بہت اعتماد کرتا تھا۔
۲؎ اس تعجب سے معلوم ہورہا ہے کہ سارے صحابہ نے یہ نفل چھوڑ دیئے تھے کوئی نہ پڑھتا تھا جو کوئی پڑھتا تھا تو اس پر چہ میگوئیاں ہوتی تھیں۔جیسے وتر کی ایک رکعت جب امیر معاویہ نے پڑھی تو بعض نے حضرت ابن عباس سے بطور تعجب یہ کہا۔
۳؎ دنیوی کاروبار میں صراحتہً معلوم ہوا کہ کوئی صحابی انہیں سنت نہ سمجھتا تھا مباح یا حد درجہ مستحب جانتے تھے وہ بھی بے خبری سے،ورنہ صحابہ دنیاوی مشغولیت کی وجہ سے سنت نہیں چھوڑ سکتے تھے۔
|
1182 -[24] وَعَن كَعْب بن عجْرَة قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى مَسْجِدَ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ فَصَلَّى فِيهِ الْمَغْرِبَ فَلَمَّا قَضَوْا صَلَاتَهُمْ رَآهُمْ يُسَبِّحُونَ بَعْدَهَا فَقَالَ: «هَذِهِ صَلَاةُ الْبُيُوتِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ وَالنَّسَائِيِّ قَامَ نَاسٌ يَتَنَفَّلُونَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الصَّلَاة فِي الْبيُوت» |
روایت ہے حضرت کعب ابن عجرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی عبدالاشہل کی مسجد میں تشریف لے گئے ۱؎ تو وہاں مغرب پڑھی جب لوگ اپنی نماز پڑھ چکے تو حضور نے انہیں اس کے بعد نفل پڑھتے دیکھا تو فرمایا کہ یہ گھروں کی نماز ہے ۲؎(ابوداؤد) ترمذی اور نسائی کی روایت میں ہے کہ کچھ لوگ نفل پڑھنے کھڑے ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ نماز گھروں میں پڑھنی چاہیئے۳؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع