30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1177 -[19] عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: " أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ بَعْدَ الزَّوَالِ تُحْسَبُ بِمِثْلِهِنَّ فِي صَلَاةِ السَّحَرِ. وَمَا مِنْ شَيْءٍ إِلَّا وَهُوَ يُسَبِّحُ اللَّهَ تِلْكَ السَّاعَةَ ثُمَّ قَرَأَ: (يَتَفَيَّأُ ظِلَالُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَ الشَّمَائِلِ سُجَّدًا لَهُ وهم داخرون)رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان |
روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ظہر کے پہلے زوال کے بعد چار رکعتیں نماز تہجد کی اتنی رکعتوں کے برابر رکھی جاتی ہیں ۱؎ اور نہیں ہے کوئی چیز مگر وہ اس گھڑی اﷲ کی تسبیح کرتی ہے پھر تلاوت فرمائی کہ مائل ہوتے ہیں ان کے سائے دائیں بائیں اﷲ کو سجدہ کرتے عاجز ہو کر ۲؎(ترمذی،بیہقی شعب الایمان) |
۱؎ یعنی ظہر کی پہلی سنتوں کا ثواب تہجد کی چار رکعتوں کے برابر ہے کیونکہ تہجد کے وقت بھی رحمت کے دروازے کھلے ہوتے ہیں اور ساری مخلوق رب کی عبادت کررہی ہوتی ہے اور اس وقت بھی جیسا کہ ابھی روایت میں گزر چکا اور آیندہ بھی آرہا ہے۔بعض علماء نے ان رکعتوں سے مراد فجر کی سنتیں لی ہیں۔سحربمعنی صبح مگر پہلی تفسیر زیادہ قوی ہے کیونکہ فجر کی سنتیں چار نہیں بلکہ دو ہیں۔خیال رہے کہ آدھی رات کے بعد کا وقت سحر میں شمار ہے۔
۲؎ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صبح کی طرح یہ وقت بھی ساری مخلوق کی عبادت کا ہے اس لیئے یہ سنتیں بہت محبوب ہیں نیز اس وقت آفتاب ترقی سے تنزل کی طرف مائل ہوتا ہے جس میں مخلوق کی فناء کی طرف اشارہ ہے۔
|
1178 -[20] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي قطّ وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ قَالَتْ: وَالَّذِي ذَهَبَ بِهِ مَا تَركهمَا حَتَّى لَقِي الله |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس عصر کے بعد دو رکعتیں کبھی نہ چھوڑیں (مسلم،بخاری)اور بخاری کی روایت ہے فرماتی ہیں کہ اس کی قسم جو انہیں لے گیا حضور نے اﷲ سے ملنے تک وہ دونوں کبھی نہ چھوڑیں ۱؎ |
۱؎ اس کی شرح پہلے گزرچکی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ظہر کی دو سنتیں ایک بار رہ گئی تھیں جو آپ نے بعد عصر قضاء کیں پھر ہمیشہ ہی پڑھتے رہے لہذا یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات سے ہیں،ہمارے واسطے منع،اسی لیئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رکعتیں ہمیشہ گھر ہی میں پڑھیں مسجد میں کبھی نہ پڑھیں تاکہ لوگ پڑھنا شروع نہ کردیں اور حضرت ام سلمہ سے ان رکعتوں کی مخصوص وجہ بھی بیان فرمادی۔
|
1179 -[21] وَعَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ التَّطَوُّعِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَ: كَانَ عُمَرُ يَضْرِبُ الْأَيْدِيَ عَلَى صَلَاةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ وَكُنَّا نُصْلِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّمْس قبل صَلَاةِ الْمَغْرِبِ فَقُلْتُ لَهُ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا؟ قَالَ: كَانَ يَرَانَا نُصَلِّيهِمَا فَلَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت مختار ابن فلفل سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک سے عصر کے بعد کے نفلوں کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ حضرت عمر بعد عصر نماز پڑھنے پر لوگوں کے ہاتھوں پر مارتے تھے ۲؎ حالانکہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آفتاب ڈوبنے کے بعد مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے ۳؎ تو میں نے ان سے کہا کہ کیا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ پڑھتے تھے تو فرمایا کہ ہمیں پڑھتے دیکھتے تھے تو نہ ہمیں حکم کرتے تھے اور نہ منع کرتے تھے ۴؎(مسلم) |
۱؎ آپ تابعی ہیں،مخزومی ہیں،کوفی ہیں،حضرت انس سے ملاقات ہے،سفیان ثوری نے آپ سے احادیث لیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع