30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1171 -[13] وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُؤمنِينَ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے تھے جن کے درمیان مقرب فرشتوں اور ان کے مطیع مسلمانوں اور مومنوں پر سلام سے فاصلہ کرتے تھے ۱؎(ترمذی) |
۱؎ ظاہر ہے کہ درمیان کے سلام سے نماز کا سلام ہی مراد ہے جس پر نماز ہوتی ہے یا ان میں دو رکعتیں تحیۃ الوضو کی تھیں اور دو عصر کی یا چاروں عصر کی،بیان جواز کے لیئے ان کے درمیان سلام پھیرا گیا۔بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاں سلام سے مراد التحیات ہے کیونکہ اس میں سلام ہوتا ہے اس صورت میں یہ چاروں رکعتیں ایک سلام سے ہوں گی مگر پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔
|
1172 -[14] وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قبل الْعَصْر رَكْعَتَيْنِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے ۱؎(ابوداؤد) |
۱؎ یعنی کبھی چار کبھی دو لہذا یہ حدیث گزشتہ کے خلاف نہیں اسی لیئے امام اعظم فرماتے ہیں نمازی کو اختیار ہے کہ عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے یا دو۔
|
1173 -[15] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيمَا بَيْنَهُنَّ بِسُوءٍ عُدِلْنَ لَهُ بِعِبَادَةِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عمر بن أَبِي خَثْعَمٍ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يَقُولُ: هُوَ مُنكر الحَدِيث وَضَعفه جدا |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھے جن کے درمیان کوئی بری بات نہ کرے تو یہ بارہ برس کی عبادت کے برابر ہوں گی ۱؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے جسے ہم سوائے عمر ابن خثعم کی حدیث کے اور سے نہیں پہچانتے اور میں نے محمد ابن اسمعیل کو فرماتے سنا کہ وہ منکر حدیث ہے اور اسے بہت ضعیف کہا ۲؎ |
۱؎ اس نماز کا نام صلوۃ اوابین ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ چھ رکعتیں مغرب کی سنتوں و نفلوں کے ساتھ ہیں،بعض کہتے ہیں کہ ان کے علاوہ۔مرقاۃ نے پہلی صورت کو ترجیح دی اور فرمایامؤکدہ دو سنتیں الگ سلام سے پڑھے،باقی چار میں اختلاف ہے دو سلاموں سے پڑھے یا ایک سے۔خیال رہے کہ ان جیسی احادیث سے فضائل میں ثواب عبادت مراد ہوتا ہے نہ کہ اصل عبادت،لہذا اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک بار نماز اوّابین پڑھ کر ۱۲ سال تک نماز سے بے پرواہ ہوجاؤ۔
۲؎ اس کے ضعیف ہونے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ فضائل اعمال میں حدیث ضعیف قبول ہے،نیز اسے طبرانی وغیرہ نے مختلف اسنادوں سے نقل کیا جس سے اس میں قوت آگئی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع