دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

باب من صلی صلوۃ مرتین

باب جو دوبار نماز پڑھے ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  حقیقۃً دوبار پڑھے اس کی بہت صورتیں ہیں جن میں سے کچھ کا ذکر ممانعت کے اوقات میں ہوچکا ہے۔

1150 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَأْتِي قومه فَيصَلي بهم

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ ابن جبل نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ نمازپڑھتے تھے پھر اپنی قوم میں آتے انہیں نماز پڑھاتے ۱؎ ( مسلم،بخاری)

۱؎ اس کی شرح معہ تحقیق گزرچکی کہ آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے پیچھے نفل کی نیت کرتے او ر قوم کے ساتھ فرض پڑھتے تھے اور یہ نفل پڑھنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی اقتداء کی برکت حاصل کرنے کے لیئے تھا۔

1151 -[2]

وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ فَيُصَلِّي بِهِمُ الْعِشَاءَ وَهِيَ لَهُ نَافِلَة.

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے عشاء کی پھر اپنی قوم میں آتے انہیں عشاء پڑھاتے ان کی زائد نماز ہوتی ۱؎

۱؎ ظاہر یہ ہے کہ ھِیَ کا مرجع آپ کی پہلی نماز ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کی یعنی پہلی نماز نفل ہوتی تھی اور دوسری فرض اور اگر اس کا مرجع دوسری نماز ہو تو نافلۃ کے لغوی معنی مراد ہوں گے یعنی زائد۔ قرآن کریم نے اس معنی میں فرض نماز کو بھی نفل فرمایا ہے: "فَتَہَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ" حضور صلی اللہ علیہ وسلم  پر تہجد فرض تھی مگر اس کو نافلہ بمعنی زائد ہ فرمایا گیا اور اگر مان لیا جائے کہ آپ اولًا فرض ہی پڑھتے تھے بعد میں نفل تو یہ آپ کا اجتہاد تھا  اسی لیئے بعض روایات میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  نے آپ سے فرمایا اے معاذ یا تم میرے ساتھ نماز پڑھو یا اپنی قوم کو ہلکی نماز پڑھاؤ۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1152 -[3]

عَن يزِيد بن الْأسود قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّتَهُ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ وَانْحَرَفَ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ فِي آخِرِ الْقَوْمِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَهُ قَالَ: «عَلَيَّ بِهِمَا» فَجِيءَ بِهِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا فَقَالَ: «مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا؟» . فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا. قَالَ: «فَلَا تَفْعَلَا إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ فَصَلِّيَا مَعَهُمْ فَإِنَّهَا لَكُمَا نَافِلَةٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

روایت ہے حضرت یزید ابن اسود سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ آپ کے حج میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کے ساتھ مسجد خیف میں فجر کی نماز پڑھی جب آپ نماز پوری کرچکے اور پھر ے تو  آخری قوم میں دو شخص تھے جنہوں نے آپ کے ساتھ ساتھ نماز نہ پڑھی فرمایا انہیں میرے پاس لاؤ انہیں لایا گیا ان کے کندھے کانپ رہے تھے ۲؎ فرمایا کہ تمہیں ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا انہوں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  ہم اپنی منزلوں میں نماز پڑھ چکے تھے فرمایا ایسا نہ کرو جب اپنی منزلوں میں نماز پڑھ لو پھر جماعت کی مسجد میں آؤتو ان کی ساتھ بھی پڑھ لو کہ وہ تمہارے لیئے نفل ہوجائے گی۳؎ (ترمذی، ابودؤد،نسائی)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن