دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

۲؎ یہاں مرقاۃ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں بشریت بھی ہے اور ملکیت بھی(فرشتہ ہونا) آپ پر کبھی بشریت کے حالات ظاہر ہوتے تھے،کبھی ملکیت کے،ہرطرف سے دیکھنا فرشتہ کی صفت ہے جو بعض اوقات خصوصًا نماز میں آپ سے ظاہر ہوتی ہے۔لطف یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں احسان یہ ہے کہ نماز میں بندہ سمجھے کہ میں رب کو دیکھ رہا ہوں اگر یہ نہ سمجھ سکے تو کم از کم یہ سمجھے کہ رب مجھے دیکھ رہا ہے اور اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نمازی یہ سمجھ کر نماز پڑھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ رہے ہیں۔نتیجہ یہ نکلا کہ کمال احسان یہ ہے کہ نمازی یہ سمجھ  کر نماز پڑھے کہ رب بھی مجھے دیکھ رہا ہے اور جناب مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بھی۔

1138 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُبَادِرُوا الْإِمَامَ إِذَا كَبَّرَ فكبروا وَإِذا قَالَ: وَلَا الضَّالّين. فَقُولُوا: آمِينَ وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَك الْحَمد " إِلَّا أَنَّ الْبُخَارِيَّ لَمْ يَذْكُرْ: " وَإِذَا قَالَ: وَلَا الضَّالّين "

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے امام سے جلدی نہ کرو جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ کہے وَلَاالضَّآلِّیْنَ تو تم کہو آمین ۱؎ اور جب رکوع کرے تم رکوع کرو اور جب کہے سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَہ تو تم کہو اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْد ۲؎(مسلم،بخاری) مگر بخاری نے ذکر نہ کیا کہ جب وہ  وَلَاالضَّآلِّیْنَ کہے۔

۱؎ یعنی نماز کے اقوال و افعال سب میں امام سے پیچھے رہو آگے نہ بڑھو۔خیال رہے کہ دیگر تکبیروں میں مقتدی کا امام سے آگے بڑھنا مکروہ ہے مگر تکبیر تحریمہ میں آگے بڑھنا نماز کو فاسد کردے گا،وہاں ضروری ہے کہ امام کے بعد تکبیر کہے ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ اس تقسیم سے معلوم ہورہا ہے کہ مقتدی سورۂ فاتحہ نہ پڑھے گا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہ فرمایا کہ جب تم "وَلَاالضَّآلِّیْن" کہو تو تم "آمین" کہو۔

۲؎  ظاہر یہ ہے کہ یہ دونوں کلمے امام اور مقتدی  پرتقسیم کیئے گئے ہیں،یہی ہمارا مذہب ہے یہاں "اَللّٰھُمَّ" بھی آگیا اور روایات میں نہیں ہر طرح جائز ہے۔

1139 -[4] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْهُ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ فَصَلَّى صَلَاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا صَلَّى قَائِما فصلوا قيَاما فَإِذا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبنَا وَلَك الْحَمد وَإِذا صلى قَائِما فصلوا قيَاما وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ» قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: قَوْلُهُ: «إِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا» هُوَ فِي مَرَضِهِ الْقَدِيمِ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا وَالنَّاسُ خَلْفَهُ قِيَامٌ لَمْ يَأْمُرْهُمْ بِالْقُعُودِ وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ فَالْآخِرِ مِنْ فِعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. هَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ. وَاتَّفَقَ مُسْلِمٌ إِلَى أَجْمَعُونَ. وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ: «فَلَا تختلفوا عَلَيْهِ وَإِذا سجد فاسجدوا»

روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے پر سوار ہوئے تو اس سے گر گئے تو آپ کی دائیں کروٹ چھل گئی ۱؎ پھر آپ نے کوئی نماز بیٹھ کر پڑھی تو ہم نے بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر ہی پڑھی جب فارغ ہوئے تو فرمایا امام اس لیئے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے تو جب وہ نماز کھڑے ہو کر پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو جب رکوع کرے تو تم رکوع کرو جب اٹھائے تو تم اٹھاؤ جب کہے سمع اﷲ لمن حمدہ تو تم کہو ربنا لك الحمد جب وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم سب بیٹھ کر پڑھو ۲؎ حمیدی فرماتے ہیں کہ یہ حکم کہ وہ بیٹھ کر پڑھے تم بیٹھ کر پڑھو آپ کے پرانے مرض میں تھا پھر اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز بیٹھ کر پڑھی اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے تھے اور انہیں بیٹھنے کا حکم نہ دیا اور  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل لیا جاتا ہے اور آخری یہ ہے ۳؎ یہ بخاری کے لفظ ہیں مسلم سے اجمعون تک متفق ہیں اور ایک روایت میں یہ زیادہ ہے کہ امام کی مخالفت نہ کرو جب سجدے کرے سجدہ کرو تم۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن