30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ ظاہر یہ ہے کہ یہاں امام سے مراد نماز کا امام ہے اور ناپسندیدگی سے مراد امام کی جہالت یا بدعملی یا بدمذہبی کی وجہ سے ناراضی ہے ۔اگر لوگ دنیاوی وجہ سے ناراض ہوں تو اس کا اعتبار نہیں بلکہ اس صورت میں وہ لوگ گنہگار ہوں گے۔خیال رہے کہ ناراضی میں اکثر کا اعتبار ہے دو چار آدمی تو ہر ایک سے ناراض ہوتے ہی ہیں۔
|
1123 -[7] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا تُقْبَلُ مِنْهُمْ صَلَاتُهُمْ: مَنْ تَقَدَّمَ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ وَرَجُلٌ أَتَى الصَّلَاةَ دِبَارًا وَالدِّبَارُ: أَنْ يَأْتِيَهَا بَعْدَ أَنْ تَفُوتَهُ وَرَجُلٌ اعْتَبَدَ مُحَرَّرَةً ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تین شخص ہیں جن کی نماز قبول نہیں ہوتی جو کسی قوم کے آگے کھڑا ہوجائے حالانکہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں اور وہ شخص جو نماز میں پیچھے آئے یہ کہ فوت ہونے کے بعد آئے ۱؎ اور وہ شخص جو کسی آزاد کو غلام بنالے ۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ) |
۱؎ یعنی نماز قضا کردینے یا بلاوجہ جماعت چھوڑ دینے کا عادی ہوگیا ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ جماعت واجب ہے اس کے چھوڑنے کی عادت فسق ہے۔
۲؎ مُحَرَّرَۃً رَقَبَۃًپوشیدہ کی صفت ہے،۔آزاد کو غلام بنانے کی دو صورتیں ہیں:ایک یہ کہ ظلمًا آزاد کو پکڑ کر غلام بنالیا جائے جیسے یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے آپ کے ساتھ کیا۔دوسرے یہ کہ اپنے غلام کو خفیہ طور پر آزاد کرکے پھر غلام بنالیا جائے۔غلام ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے کچھ نہ کہہ سکے،ایسے ظالم کی نماز کیسے قبول ہوسکتی ہے۔چونکہ عرب میں اسلام سے پہلے اس قسم کی حرکتیں عام ہوتی تھیں اس لیے یہ وعید ارشاد فرمائی گئی۔
|
1124 -[8] وَعَن سَلامَة بنت الْحر قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَتَدَافَعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ لَا يَجِدُونَ إِمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت سلامہ بنت حر سے ۱؎ فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ علامات قیامت سے یہ ہے کہ مسجد والے ایک دوسرے پر ٹالیں کوئی امام نہ پائیں جو انہیں نماز پڑھائے ۲؎(احمد،ابوداؤد، ابن ماجہ) |
۱؎ آپ صحابیہ ہیں،قبیلہ بنی ازدسے یا بنی اسد سے،ان کی حدیثیں کوفہ میں زیادہ مشہور ہوئیں۔
۲؎ یعنی مسلمان مسجد میں جمع ہوں اور ہر ایک دوسرے سے کہے کہ تو نماز پڑھا۔مقصد یہ ہے کہ قریب قیامت جہالت ایسی عام ہوجائے گی کہ مسلمانوں کے مجمعوں میں کوئی امامت کے قابل نہ ملے گا،بعض دفعہ لوگ اکیلے اکیلے نماز پڑھ کر چلے جائیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تکلفًا امامت کو ٹالنا بھی ممنوع ہے۔ مرقاۃ نے یہاں فرمایا اس حدیث کی بناء پر علماء نے امامت،تعلیم قرآن و غیرہ عبادتوں پر اجرت جائز کی تاکہ مسجدیں ویران نہ ہوجائیں۔
|
1125 -[9] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «الْجِهَادُ وَاجِبٌ عَلَيْكُمْ مَعَ كُلِّ أَمِيرٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ. وَالصَّلَاةٌ وَاجِبَةٌ عَلَيْكُمْ خَلْفَ كُلِّ مُسْلِمٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ. وَالصَّلَاةٌ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ».رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جہاد تم پر واجب ہے ہر امیر کے ساتھ نیک ہو بَد ۱؎ اگرچہ گناہ کبیرہ کرے اور ہر مسلمان کے پیچھے تم پر نماز واجب ہے نیک ہو یا بد اگرچہ گناہ کبیرہ کرے ۲؎ اور ہر مسلمان کی نماز جنازہ واجب ہے نیک ہو یا بد اگر چہ گناہ کبیرہ کرے ۳؎(ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع