دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

باب الموقف

جگہ کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  یعنی اس کا بیان کہ جماعت میں امام و مقتدی کہاں کھڑے ہوں۔

1106 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بِتُّ فِي بَيت خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ فَعَدَلَنِي كَذَلِكَ مِنْ وَرَاءِ ظَهره إِلَى الشق الْأَيْمن

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عباس سے فرماتے ہیں میں نے اپنی خالہ میمونہ کے گھر میں رات گزاری ۱؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے اٹھے میں  آپ کے بائیں کھڑا ہوگیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیٹھ کے پیچھے سے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اسی طرح پیٹھ کے پیچھے سے دائیں طرف گھمالیا ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ جب کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی باری ان کے ہاں تھی اس نیت سے رات گزاری تاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے رات کے اعمال طیبہ و طاہرہ دیکھوں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تہجد ادا کروں جیسا کہ دیگر روایات میں ہے اس لیے آپ تمام رات جاگتے ہی رہے ہوں گے۔شعر

ریاضت نام ہے تیری گلی میں آنے جانے کا                 تصور میں تیرے رہنا عبادت اس کو کہتے ہیں

۲؎ اس حدیث سے بہت سے مسائل معلو م ہوئے: ایک یہ کہ نفل نماز خصوصًا تہجد جماعت سے جائز ہے جبکہ اس کے لیے اذان تکبیر لوگوں کے بلاوے وغیرہ سے اہتمام نہ کیا گیا ہو۔دوسرے یہ کہ اکیلا مقتدی امام کے برابر دائیں طرف کھڑاہوگا۔ تیسرے یہ کہ عمل قلیل ضرورۃً نماز میں جائز ہے جس سے نماز نہیں ٹوٹتی،دیکھو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ہی میں آپ کو ہاتھ سے پکڑ کر گھمایا اور آپ نماز ہی میں ایک دو قدم چل کر بائیں سے دائیں طرف گئے۔چوتھے یہ کہ مقتدی امام سے آگے نہیں بڑھ سکتا اگر بڑھے گا تو نماز جاتی رہے گی، دیکھو حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم  نے آپ کو آگے سے نہیں گھمایا حالانکہ وہ آسان تھا بلکہ پیچھے سے گھمایا۔پانچویں یہ کہ جس نے اول سے امامت کی نیت نہ کی ہو اس کے پیچھے نماز جائز ہے ،دیکھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے بوقت تکبیرتحریمہ اکیلے نماز کی نیت کی تھی مگر بعد میں حضرت ابن عباس مقتدی بن کر کھڑے ہوگئے۔

1107 -[2]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ فَجِئْتُ حَتَّى قُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَن يَمِينه ثُمَّ جَاءَ جَبَّارُ بْنُ صَخْرٍ فَقَامَ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بيدينا جَمِيعًا فدفعنا حَتَّى أَقَمْنَا خَلفه. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  نماز کے لیے کھڑے ہوئے پھر میں آیا حتی کہ  آپ کی بائیں طر ف کھڑا ہوگیا تو  آپ نے میرا ہاتھ پکڑا  اور مجھے گھمایا یہاں تک کہ اپنے دائیں مجھے کھڑا کرلیا پھر جبار ابن صخر آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں کھڑے ہوگئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم دونوں کا ہاتھ پکڑا اور ہمیں پیچھے کیا حتی کہ ہمیں اپنے پیچھے کھڑا کرلیا ۱؎(مسلم)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن