30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ اس طرح کہ اونچے نیچے مقام پر نہ کھڑے ہو،ہموار جگہ کھڑے ہوتاکہ گردنیں برابر رہیں،لہذا یہ جملہ مکرر نہیں آگے پیچھے نہ ہونا رَصُّوْا میں بیان ہوچکا تھا۔خیال رہے کہ گردنوں کا قدرتی طور پر اونچا نیچا ہونا معاف ہے کہ بعض لمبے اور بعض پستہ قد ہوتے ہیں۔
۴؎ یعنی خزب شیطان جو نماز میں وسوسہ ڈالتا ہے وہ صف کی کشادگی میں بکری کے بچے کی شکل میں داخل ہو کر نمازیوں کو وسوسہ ڈالتا ہے۔ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ شیطان مختلف شکلیں اختیار کرسکتا ہے،دیکھو اس شیطان کی شکل اپنی تو کچھ اور ہے مگر اس وقت بکری کی شکل میں بن جاتا ہے۔دوسرے یہ کہ رب تعالٰی نے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کو وہ طاقت بخشی ہے کہ خالق کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بھی ہر مخلوق پر نظر رکھتے ہیں۔تیسرے یہ کہ جب شیطان جیسی غیبی مخلوق آپ کی نگاہ سے غائب نہیں تو انسان آپ سے کیسے چھپ سکتے ہیں۔
|
1094 -[10] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتِمُّوا الصَّفَّ الْمُقَدَّمَ ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ فَمَا كَانَ مِنْ نَقْصٍ فَلْيَكُنْ فِي الصَّفّ الْمُؤخر» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اگلی صف پوری کرو پھر اس کے بعد والی تو جو کمی ہو وہ پچھلی صف میں ہوا ۱؎ (ابوداؤد) |
۱؎ یہ صفوف نماز کا قاعدہ کلیہ ہے کہ اگلی صفیں پوری کی جائیں اگر آدمی صف سے کم ہوں تو یہ کمی آخری صف میں ہونی چاہیے۔
|
1095 -[11] وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَلُونَ الصُّفُوفَ الْأُولَى وَمَا مِنْ خُطْوَةٍ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ من خطْوَة يمشيها يصل العَبْد بهَا صفا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے اﷲ اور اس کے فرشتے ان لوگوں پر درود بھیجتے ہیں جو اگلی صفوں سے ملتے ہیں ۱؎ اور اﷲ کو اس قدم سے زیادہ کوئی قدم پیارا نہیں جس قدم سے انسان صف سے ملے ۲؎(ابوداؤد) |
۱؎ یعنی اگلی صف کے نمازیوں کے لیے فرشتے دعائے رحمت کرتے ہیں اور اﷲ تعالٰی نزول رحمت فرماتا ہے،رب فرماتا ہے:"ہُوَ الَّذِیۡ یُصَلِّیۡ عَلَیۡکُمْ وَ مَلٰٓئِکَتُہٗ"۔خیال رہے کہ اﷲ تعالٰی اور فرشتوں کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود اور نوعیت کا ہے اور نمازیوں پر اور نوعیت کا،لہذا اس آیت و حدیث سے یہ لازم نہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مثل ہوجائیں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی قرآن میں"یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ" فرمایا اور ہمارے لیے بھی یُصَلِّیۡ عَلَیۡکُمْ ارشاد ہوا جیسا کہ چکڑالویوں نے سمجھا،حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتوں کی بارشیں ہورہی ہیں اور ہم پر چھینٹا ہے۔
۲؎ معلوم ہوا کہ پیاری جگہ جانے کے لیے قدم بھی اﷲ کو پیارے ہیں،خوش نصیب ہیں وہ جو ان قدموں سے حرمین شریفین جائیں۔
|
1096 -[12] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِن اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى مَيَامِنِ الصُّفُوفِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یقینًا اﷲ اور اس کے فرشتے صفوں کے داہنے حصوں پر درود بھیجتے ہیں ۱؎(ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع