30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1089 -[5] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِيَلِنِي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ» ثَلَاثًا وَإِيَّاكُم وهيشات الْأَسْوَاق ". رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسو ل اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ علم و عقل والے مجھ سے قریب رہا کریں پھر وہ جو ان سے قریب ہوں تین بار فرمایا اور تم بازاروں کے شورو پکار سے الگ رہو ۱؎(مسلم) |
۱؎ یعنی مسجدوں میں بازاروں کا سا شور نہ کر و ادب اور خاموشی سے بیٹھو یا بازاروں کی طرح چھوٹے بڑے مل کر نہ بیٹھو بلکہ یہاں فراق مراتب کرو کہ علماء،عوام،بچے،عورتیں چھٹ کر اپنے اپنے مقام پر بیٹھیں۔یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ بلاضرورت بازاروں میں نہ جاؤ اور وہاں شور نہ مچاؤ، اس صورت میں علیٰحدہ حکم ہوگا۔
|
1090 -[6] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا فَقَالَ لَهُمْ: «تَقَدَّمُوا وَأْتَمُّوا بِي وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ لَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يؤخرهم الله» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں کچھ پیچھے رہنا دیکھا ۱؎ تو فرمایا آگے بڑھو اور میری اقتداء کرو اور تمہارے بعد والے تمہاری ا قتداء کریں ۲؎ قومیں پیچھے رہتی رہیں گی حتی کہ اﷲ انہیں پیچھے کردے گا ۳؎(مسلم) |
۱؎ نماز کی صفوں میں یا علم سیکھنے میں سستی،پہلے معنی زیادہ قوی ہیں،یعنی صف اول میں آنے کی کوشش کم دیکھی ۔
۲؎ یعنی صف اول والے مجھے دیکھ کر نماز پڑھیں اور پچھلی صفوں والے اگلی صفوں کو دیکھ کر یا صحابہ براہ راست میری پیروی کریں اور تا قیامت مسلمان صحابہ کی۔معلوم ہوا کہ صحابہ کرام اسلام کی صف ہیں ہم لوگ پچھلی صفیں یا وہ حضرات ریل کا اگلا ڈبہ ہیں جو انجن سے ملا ہوا ہے اور ہم لوگ پچھلے ڈبے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے فیوض ہمیں صحابہ کے ذریعہ ملیں گے۔پتہ لگا کہ جو لوگ صحابہ کو مومن نہیں مانتے وہ خود بھی مومن نہیں کہ اگر ریل کا پہلا ڈبہ ہی منزل پر نہ پہنچا انجن سے کٹ گیا تو پچھلے ڈبے منزل پر کیسے پہنچ سکتے ہیں۔
۳؎ یعنی اگر مسلمان صف اول میں پہنچنے یا اور دینی کاموں میں سستی کریں گے تو ثواب رحمت رب کے فضل اور دخول جنت میں پیچھے رہیں گے،دیکھو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سیدالانبیاءہوکر ہر نیک کام میں سبقت کرتے تھے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَاسْتَبِقُوا الْخَیۡرٰتِ"۔
|
1091 -[7] وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآنَا حلقا فَقَالَ: «مَالِي أَرَاكُمْ عِزِينَ؟» ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ:«أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟» فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ قَالَ: «يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْأُولَى وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفّ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ ہم پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ہمیں حلقہ حلقہ دیکھا فرمایا کیا ہے میں تمہیں متفرق دیکھتا ہوں ۱؎ پھر ہم پر تشریف لائے تو فرمایا کہ ایسی صفیں کیوں نہیں بناتے جیسے فرشتے اپنے رب کے نزدیک بناتے ہیں ہم نے عرض کیا یارسول اﷲ فرشتے رب کے نزدیک کیسے صفیں بناتے ہیں فرمایا اگلی صفیں پوری کرتے ہیں اور صف میں مل کر کھڑے ہوتے ہیں ۲؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع