30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1086 -[2] وَعَن أنس قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ فَقَالَ: «أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَفِي الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ قَالَ: «أَتِمُّوا الصُّفُوف فَإِنِّي أَرَاكُم من وَرَاء ظَهْري» |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نماز کی تکبیر کہی گئی تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرۂ انور سے ہم پر توجہ فرمائی فرمایا کہ اپنی صفیں سیدھی کرو اور مل کر کھڑے ہو میں تمہیں اپنے پیچھے دیکھتا ہوں ۱؎(بخاری)اور مسلم بخاری میں ہے کہ فرمایا صفیں پوری کرو کیونکہ میں تمہیں اپنی پشت سے دیکھتا ہوں۔ |
۱؎ اس کی شرح پہلے گزر چکی کہ دیکھنے سے مراد آنکھ سے دیکھنا ہے۔ یہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے کہ آپ کی آنکھ آگے پیچھے اور پس پردہ اندھیرے اجیالے میں یکساں دیکھتی ہیں۔حق یہ ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معجزہ صرف نماز سے خاص نہیں تھا نہ حیات شریف سے۔وہ حدیث کہ میں دیوار کے پیچھے کی چیز نہیں جانتا بالکل بے اصل ہے جیسا کہ شیخ نے فرمایا اور اصلے نیست اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے حضرت عیسی روح اﷲ فرماتے ہیں کہ جو کچھ تم گھر میں کھا کر بچا کر آتے ہو میں بتاسکتا ہوں،یہ تو حبیب اﷲ کی آنکھ ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔
|
1087 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَوُّوا صُفُوفَكُمْ فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوفِ من إِقَامَة الصَّلَاة» . إِلَّا أَنَّ عِنْدَ مُسْلِمٍ: «مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ» |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صفیں سیدھی کروکہ صفیں سیدھی کرنا نماز قائم کرنے سے ہے ۱؎(مسلم،بخاری)مگر مسلم کے نزدیک نماز پوری کرنے سے ہے۔ |
۱؎ یعنی رب تعالٰی نے جو فرمایا:"یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ"یا فرمایا "اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ"۔اس سے مراد ہے نماز صحیح پڑھنا اور نماز صحیح پڑھنے میں صف کا سیدھا کرنا بھی داخل ہے کہ اس کے بغیر نماز ناقص ہوتی ہے۔
|
1088 -[4] وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلَاةِ وَيَقُولُ: «اسْتَوُوا وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبكُمْ ليليني مِنْكُم أولُوا الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ» . قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ أَشَدُّ اخْتِلَافا. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابو مسعود انصاری سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ہمارے کندھے پکڑتے اور فرماتے تھے سیدھے رہو الگ الگ نہ رہو ورنہ تمہارے دل الگ ہوجائیں گے ۱؎ اور تم میں عاقل و بالغ میرے قریب رہا کریں پھر وہ جو ان سے قریب ہوں پھر وہ جو ان سے قریب ہوں۲؎ ابو مسعو د فرماتے ہیں اس لیے آج تم میں بہت اختلاف ہے۳؎ (مسلم) |
۱؎ یہ حدیث گزشتہ کی شرح ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ صفیں ٹیڑھی ہونے سے قومیں ٹیڑھی ہوجاتی ہیں کیونکہ قالب کا اثرقلب پر اور قلب کا اثر قالب پر پڑتا ہے،نہانے سے دل ٹھنڈا ہوتا ہے اور دل کی خوشی و غم کا اثر چہرے پر نمودار ہوجاتا ہے۔
۲؎ یعنی صف اول میں مجھ سے قریب فقہاء صحابہ ہوں جیسے خلفائے راشدین اور عبداﷲ ابن عباس و عبداﷲ ابن مسعود وغیرہم تاکہ وہ میری نماز دیکھیں اور نماز کی سنتیں وغیرہ یاد کرکے اوروں کو سمجھائیں اور بوقت ضرورت ہماری جگہ مصلے پر کھڑے ہو کر نماز پڑھا سکیں ان کے پیچھے وہ لوگ کھڑے ہوں جو علم و عقل میں ان کے بعد ہوں تاکہ ان صحابہ سے یہ نماز سیکھیں۔سبحان اﷲ! حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم نماز میں بھی جاری رہتی تھی۔
۳؎ یعنی تم لوگوں نے صفیں سیدھی کرنے کا اہتمام چھوڑ دیا، اس لیے تم میں آپس کے جھگڑے و اختلافات پیدا ہوگئے۔خیال رہے کہ یہ حدیث جماعت کی صدہا مسائل کی اصل ہے۔فقہاء جو فرماتے ہیں کہ نماز میں پہلے مَردوں کی صف ہو،پھر بچوں کی، پھر خنثوں کی،پھر عورتوں کی اس کا ماخذ بھی یہی حدیث ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع