30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1083 -[32] وَفِي رِوَايَةِ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ فَسَبَّهُ سَبًّا مَا سَمِعْتُ سَبَّهُ مِثْلَهُ قَطُّ وَقَالَ: أُخْبِرُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ: وَاللَّهِ لنمنعهن. رَوَاهُ مُسلم |
اور سالم کی روایت میں اپنے والد سے ۱؎ یوں ہے کہ فرمایا تب عبد اللہ ان پر متوجہ ہوئے اورا نہیں ایسی گالی دی جیسی گالی دیتے انہیں کبھی نہ سنا تھا۲؎ اور فرمایا کہ میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر دیتا ہوں اورتو کہتا ہے کہ خداکی قسم ہم تو انہیں منع کریں گے۳؎(مسلم) |
۱؎ حضرت سالم بھی عبداﷲ ابن عمر کے بیٹے اور بلال ابن عبداﷲ کے بھائی ہیں ۱۲
۲؎ یعنی انہیں بہت برا بھلا کہا۔یہاں گالی سے یہی مراد ہے نہ کہ ماں بہن کی فحش گالی کہ وہ تو عامۃ المسلمین کی شان کے خلاف ہے،چہ جائیکہ صحابی،حدیث شریف میں ہے "لَاتَسُبُّوالدَّھْرَ" زمانہ کو گالی نہ دو یعنی اسے برا نہ کہو۔
۳؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے موقعہ پر اپنی رائے پیش کرنا بے ادبی ہے تم نے یہ بے ادبی کیوں کی۔اس جگہ مرقاۃ اور شرح فقہ اکبر میں ہے کہ امام ابو یوسف نے تلوار سونت لی اور فرمایا دوبارہ ایمان لاؤ ورنہ تجھے قتل کروں گا۔معلوم ہوا کہ ایسی صحیح بات کہنا بھی بے ادبی ہے جس میں حدیث شریف کے مقابلے کی بو پائی جائے، جب حدیث کا یہ مطلب ہے تو سمجھ لو حدیث والے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا کتنا ادب ہوگا۔
|
1084 -[33] وَعَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلٌ أَهْلَهُ أَنْ يَأْتُوا الْمَسَاجِدَ».فَقَالَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: فَإِنَّا نَمْنَعُهُنَّ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ هَذَا؟ قَالَ: فَمَا كَلَّمَهُ عَبْدُ اللَّهِ حَتَّى مَاتَ. رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت مجاہد سے وہ حضرت عبداﷲ ابن عمر سے راوی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص اپنے گھر والوں کو مسجدوں میں آنے سے ہر گز نہ روکے تو عبدا ﷲ ابن عمر کے بیٹے نے کہا ہم تو انہیں روکیں گے تو حضرت عبداللہ نے کہا کہ میں تجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بتاتا ہوں اور تو یہ کہتا ہے،فرماتے ہیں کہ ان سے حضرت عبداﷲ نے مرتے دم تک کلام نہ کیا ۱؎(احمد) |
۱؎ اس کی شرح ابھی گزر چکی،اس سے معلوم ہوا ہے کہ صحابہ کے دل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کیسی محبت تھی کہ ایک گستاخی کے شائبہ پر اپنے لخت جگر کو ہمیشہ کے لیئے چھوڑ دیا۔افسوس ہے ان لوگوں پر جو دین کے مقابلہ میں کسی دیندار کی مروت کریں۔بعض بے ادب کہتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ حدیث کے مقابل قیاس اور رائے کو ترجیح دیتے ہیں اسی لیے امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کو اہل الرائے کہتے ہیں۔ وہ جھوٹے اور کذاب ہیں۔ امام اعظم کا فرمان ہے کہ حدیث ضعیف بھی رائے اور قیاس پر مقدم ہے۔چنانچہ وہ اولًا قرآن کو لیتے ہیں،پھر حدیث کو پھر اقوال صحابہ کو، اگر صحابہ میں اختلاف ہو تو جن صحابی کا قول کتاب و سنت سے قریب ہو اس کو ترجیح دیتے ہیں اور اگر احادیث میں اختلاف نظر آئے تو قیاس کے ذریعہ کسی حدیث کو ترجیح دیتے ہیں،یعنی قیاس پر عمل نہیں کرتے بلکہ حدیث کی مدد سے حدیث پر عمل کرتے ہیں۔ اگر اس کی تحقیق دیکھنا ہو تو اس جگہ پر مرقاۃ دیکھو۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع