دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

1079 -[28]

وَعَن أم الدَّرْدَاء قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَهُوَ مُغْضَبٌ فَقُلْتُ: مَا أَغْضَبَكَ؟ قَالَ: وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُ مِنْ أَمْرِ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا إِلَّا أَنَّهُمْ يُصَلُّونَ جَمِيعًا. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ام درداء سے فرماتی ہیں ایک بار میرے پاس ابودرداء غصے میں آئے میں نے کہا آپ کو کس چیز نے غصہ دلایا فرمایا اﷲ کی قسم میں محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے کاموں میں سے صرف یہ پاتا ہوں کہ وہ نماز جماعت سے پڑھ لیتے ہیں ۱؎(بخاری)

۱؎  ام الدرداء حضرت ابو الدرداء کی بیوی ہیں ان کا نام خیرہ ہے۔ ابوالدرداء نے اپنے شہر والوں کی ان سے شکایت کی، اسی شہر والوں نے مسلمانوں کے سارے کام چھوڑ دیئے یا بدل دیئے صرف نماز باجماعت باقی تھی،اب ان میں بھی سستی کرنے لگے۔خیال رہے کہ حضرت ابو الدرداء بڑے زاہد،تارک الدنیا،روزہ دار،شب بیدار صحابی تھے حتی کہ ام الدرداء نے بناؤ سنگار چھوڑ دیا تھا،حضرت سلمان فارسی کے پوچھنے پر کہا کہ میں سنگار کس لیے کروں میرے خاوند کو عبادت سے فرصت ہی نہیں جو میری طرف توجہ کریں،آپ چاہتے یہ تھے کہ سارے مسلمان مجھ جیسے عابد و زاہد ہوں،جس شہر میں آپ تھے وہاں کے باشندے اس درجے کے زاہد نہ تھے، اس کی آپ شکایت کررہے ہیں کہ یہ لوگ نہ راتوں کو جاگتے ہیں نہ اشراق وغیرہ کی پابندی کرتے ہیں ہاں جماعت کے پابند ہیں تو اس میں بھی کمی کرنے لگے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ صحابہ دین کی ساری باتیں چھوڑ چکے تھے جیسا کہ روافض نے اس حدیث سے سمجھا وہ زمانہ خیر القرون میں سے تھا، اس کی بہتری کی گواہی قرآن و حدیث دے رہے ہیں۔

1080 -[29]

وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ: إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَدَ سُلَيْمَانَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ وَإِنَّ عُمَرَ غَدَا إِلَى السُّوقِ وَمَسْكَنُ سُلَيْمَانَ بَيْنَ الْمَسْجِدِ وَالسُّوقِ فَمَرَّ عَلَى الشِّفَاءِ أُمِّ سُلَيْمَانَ فَقَالَ لَهَا لَمْ أَرَ سُلَيْمَانَ فِي الصُّبْحِ فَقَالَتْ إِنَّهُ بَاتَ يُصَلِّي فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ فَقَالَ عُمَرُ لَأَنْ أَشْهَدَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي الْجَمَاعَة أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقُومَ لَيْلَةً. رَوَاهُ مَالك

روایت ہے حضرت ابوبکر ابن سلیمان ابن ابی حثمہ سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ابن خطاب نے صبح کی نماز میں سلیمان ابن ابی حثمہ کو نہ پایا ۱؎ پھر جناب عمر بازار تشریف لے گئے سلیمان کا گھر مسجد اور بازار کے درمیان تھا تو آپ سلیمان کی والدہ شفاء پر گزرے ان سے فرمایا کہ میں نے سلیمان کو فجر میں نہ پایا ۲؎ وہ بولیں وہ تمام رات نماز پڑھتے رہے پھر ان کی آنکھ لگ گئی تو حضرت عمر نے فرمایا کہ میرا فجر کی جماعت میں حاضر ہوجانا تمام رات کھڑے رہنے سے مجھے زیادہ پیارا ہے۳؎(مالک)

۱؎  سلیمان مشہور تابعی ہیں،قرشی ہیں،عدوی ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر فاروق بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح حاضرین مسجد کی تحقیق فرماتے تھے کہ کون نماز میں آیا اور کون نہیں۔

۲؎ کیا وہ بیمار ہیں یا کہیں سفر میں چلے گئے ہیں کیونکہ اس زمانہ میں کسی مسلمان کا جماعت میں نہ آنا اس کی بیماری یا سفر کی دلیل ہوتی تھی۔خیال رہے کہ حضرت شفاء کا نام لیلیٰ بنت عبداﷲ تھا،شفا ء لقب آپ مہاجرین اول میں سے تھیں بہت سے غزؤوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں دوپہر کا آرام فرمایا کرتے تھے۔

۳؎  کیونکہ جماعت خصوصًا فجر کی نماز جماعت اہم واجب ہے اور رات کی عبادت تہجد وغیرہ نفل، نفل کی وجہ سے واجب نہیں چھوڑنا چاہیئے۔مسلم شریف میں ہے کہ جو عشاء جماعت سے پڑھے،اس نے گویا آدھی رات عبادت کی اور جو فجر جماعت سے پڑھے اس نے گویا

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن