30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1076 -[25] وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«مَنْ أَدْرَكَهُ الْأَذَانُ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ خَرَجَ لَمْ يَخْرُجْ لِحَاجَةٍ وَهُوَ لَا يُرِيدُ الرّجْعَة فَهُوَ مُنَافِق» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اذان مسجد میں پالے پھر وہ نکل جائے نہ نکلا ہو کسی کام کے لیئے نہ وہ لوٹنے کا ارادہ کرتا ہو وہ منافق ہے ۱؎(ابن ماجہ) |
۱؎ یہ حدیث گزشتہ حدیث کی شرح ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہاں بھی وہی مراد تھا جو بلاضرورت جائے اور واپسی کا ارادہ نہ ہو دوسری جگہ امامت بھی حاجت میں داخل ہے اسی طرح اب ریل کا وقت ہونا یا ایسی ہی اور دنیوی حاجت اس میں شامل ہے،یہاں منافق سے مراد منافق عملی ہے، یعنی ایسا شخص منافقوں کے سے کام کرتا ہے۔
|
1077 -[26] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يُجِبْهُ فَلَا صَلَاةَ لَهُ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ» . رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيّ |
روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں جو اذان سنے پھر اسے بلا عذر قبول نہ کرے تو اس کی نماز نہیں ۱؎(دارقطنی) |
۱؎ یعنی اس کی نماز قبول نہیں یا کامل نہیں،اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسجد کی حاضری وہاں تک کے لوگوں پر واجب ہے جہاں تک اذان کی آواز پہنچے،اس کے ماسواء جگہ سے مسجد میں آنا بھی بڑی اعلیٰ عبادت ہے، صحابہ کرام قبا ء شریف سے جو کہ مدینہ سے تین میل دور ہے مسجد نبوی میں نماز کے لیے حاضر ہوا کرتے تھے۔ خیال رہے کہ یہ احکام جب ہیں جب وہاں کا امام بدمذہب نہ ہو، مرزائیوں چکڑالویوں وغیرہم کی اذان کا یہ حکم نہیں ،دیکھو مسجد ضرار کا حکم کیا ہوا۔
|
1078 -[27] وَعَن عبد الله بن أم مَكْتُوم قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمَدِينَةَ كَثِيرَةُ الْهَوَامِّ وَالسِّبَاعِ وَأَنَا ضَرِيرُ الْبَصَرِ فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ رُخْصَةٍ؟ قَالَ: «هَلْ تَسْمَعُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ؟» قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «فَحَيَّهَلَا» . وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن ام مکتوم سے انہوں نے عرض کیا یارسول ا ﷲ مدینہ بہت کیڑوں اور درندوں والا ہے ۱؎ اور میں نابینا ہوں تو کیا آپ میرے لیے اجازت پاتے ہیں ۲؎ فرمایا کیا تم "حی علی الصلوۃ،حی علی الفلاح" سنتے ہو ۳؎ عرض کیا ہاں فرمایا آؤ اور انہیں اجازت نہ دی۴؎ (ابوداؤد،نسائی) |
۱؎ خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے،مدینہ منورہ وباؤں اور بیماریوں کا گھر تھا، آپ کے قدم پاک نے وہاں سے وباؤں کو نکال کر وہاں کی مٹی کو بھی شفا بنادیا،فرماتے ہیں"تُرْبَۃُ اَرْضِنَا یَشْفِیْ سَقَیْمَنَا" ہمارے مدینہ کی مٹی بیماروں کو شفا دیتی ہے لیکن اولًا بچھو کچھ سانپ اور بھیڑیے وغیرہ رہے بعد میں اﷲ نے ان چیزوں سے زمین مدینہ کو قریبًا صاف کردیا یعنی یثرب کو طیبہ بنادیا۔چنانچہ فقیر نے وہاں دیکھا کہ دیوانے کتے،بھیڑیئے،سانپ قریبًا نہیں البتہ بچھو دیکھے جاتے ہیں۔ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب وہاں یہ موذی چیزیں موجود تھیں۔
۲؎ اس بات کی کہ میں ان عذروں کی وجہ سے مسجد میں حاضر نہ ہوا کروں اور گھر میں نماز پڑھ لیا کرو۔
۳؎ اس سے مراد پوری اذان ہے مگر نماز کے بلاوے کے یہ دو ہی لفظ ہیں اس لیے ان کا ذکر خصوصیت سے فرمایا۔(مرقاۃ)
۴؎ کیونکہ ان کے پاس کوئی لانے والا موجود تھا اور گھر بھی ان کا مسجد سے قریب تھا جس نابینا کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی حاضری معاف فرمائی ہے ان کے پاس کوئی لانے والا نہ تھا لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسجد سے قریب رہتے ہوئے نابینا پر بھی مسجد کی حاضری معاف نہیں،افسوس ان لوگوں پر بلاوجہ عذر مسجد میں نہ آئیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع