30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور جماعت کی نماز، مسجد کی حاضری،مسواک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاری۔ مومن کی پہچان یہ ہے کہ اسے یہ چیزیں پیاری ہوں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے آخری کام مسواک کیا کہ مسواک کرکے جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔صلی اللہ علیہ وبارک وسلم۔
|
1073 -[22] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْلَا مَا فِي الْبُيُوتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالذُّرِّيَّةِ أَقَمْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ وَأَمَرْتُ فِتْيَانِي يُحْرِقُونَ مَا فِي الْبُيُوتِ بِالنَّارِ» . رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا اگر گھروں میں عورتیں بچے نہ ہوتے تو میں نماز عشاء قائم کرتا اور اپنے جوانوں کو حکم دیتا کہ وہ گھروں کی چیزوں کو آگ سے جلادیں ۱؎(احمد) |
۱؎ اس طرح کہ مسجد میں نہ آنے والوں کے گھروں میں آگ لگادیں، اس کی شرح پہلے گزر چکی۔ خیال رہے کہ اگر ایسا واقعہ ہوتو جن نوجوانوں کو سرکار عالی صلی اللہ علیہ وسلم آگ لگانے بھیجتے ان پر نماز معاف ہوتی کیونکہ نجات تو حکم عالی کی اطاعت میں ہے۔ جماعت کا حکم دیں تو جماعت واجب،اگر جماعت چھوڑنے کا حکم دیں تو چھوڑنا واجب قسم رب کی اگر وہ ترک نماز سے راضی ہیں تو ترک نماز عبادت ہے اور اگر کسی کی نماز سے ناراض ہیں تو اس کے لیے وہ نماز حرام،مولیٰنا فرماتے ہیں شعر
ہر چہ گیر و علتی علت شود کفر گیرو ملتے ملت شود
اس کی نہایت نفیس اور لذیذتحقیق ہماری کتاب سلطنت"مصطفے ٰ"میں دیکھو۔
|
1074 -[23] وَعَنْهُ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كُنْتُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ فَلَا يَخْرُجْ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُصَلِّيَ. رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جب تم مسجد میں ہو اور نمازکی اذان دی جائے تو تم میں سے کوئی نماز پڑھے بغیر نہ نکلے ۱؎ |
۱؎ اس کی شرح آئندہ حدیث میں آرہی ہے۔ یہ حکم اس کے لیے ہے جس نے ابھی نماز نہ پڑھی ہو اور بلا عذر مسجد سے جائے واپسی کا ارادہ نہ ہو لہذا جو نماز پہلے ہی پڑھ چکا ہے، پھر اذان ہوئی وہ مسجد سے جاسکتا ہے،ایسے ہی اذان کے بعد استنجاء وغیرہ کرنے پھر لوٹنے کے ارادے سے جاسکتا ہے، ایسے ہی اگر یہ دوسری مسجد کا امام یا جماعت کا منتظم ہو۔
|
1075 -[24] وَعَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ قَالَ: خَرَجَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَمَا أُذِّنَ فِيهِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَمَّا هَذَا فَقَدَ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابو شعشاء سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص اذان کے بعد مسجد سے نکل گیا تو حضرت ابوہریرہ نے فرمایا کہ اس شخص نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ۱؎(مسلم) |
۱؎ کہ اسے مسجد میں ٹھہرنا اور جماعت میں شریک ہونا چاہیئے تھا۔ یہاں یہ شخص ان عذروں کے بغیر گیا ہوگا جو پہلے عرض کئے گئے اس لیے آپ نے یہ فرمایا۔
|
1076 -[25] وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«مَنْ أَدْرَكَهُ الْأَذَانُ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ خَرَجَ لَمْ يَخْرُجْ لِحَاجَةٍ وَهُوَ لَا يُرِيدُ الرّجْعَة فَهُوَ مُنَافِق» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اذان مسجد میں پالے پھر وہ نکل جائے نہ نکلا ہو کسی کام کے لیئے نہ وہ لوٹنے کا ارادہ کرتا ہو وہ منافق ہے ۱؎(ابن ماجہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع