دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

1072 -[21]

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنِ الصَّلَاةِ إِلَّا مُنَافِقٌ قَدْ عُلِمَ نِفَاقُهُ أَوْ مَرِيضٌ إِنْ كَانَ الْمَرِيضُ لَيَمْشِي بَيْنَ رَجُلَيْنِ حَتَّى يَأْتِيَ الصَّلَاةَ وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَنَا سُنَنَ الْهُدَى وَإِنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي يُؤَذَّنُ فِيهِ وَفِي رِوَايَة: " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ غَدًا مُسْلِمًا فليحافظ على هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ فَإِنَّ اللَّهَ شرع لنبيكم صلى الله عَلَيْهِ وَسلم سُنَنَ الْهُدَى وَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى وَلَوْ أَنَّكُمْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ كَمَا يُصَلِّي هَذَا الْمُتَخَلِّفُ فِي بَيْتِهِ لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ ثُمَّ يَعْمِدُ إِلَى مَسْجِدٍ مِنْ هَذِهِ الْمَسَاجِدِ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا حَسَنَةً وَرَفَعَهُ بِهَا دَرَجَةً ويحط عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومُ النِّفَاقِ وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يُؤْتَى بِهِ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَام فِي الصَّفّ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنے صحابہ کو اس طرح دیکھا ہے کہ نماز کے پیچھے نہیں رہتا تھا مگر وہ منافق جس کا نفاق معلوم ہو یا بیمار ۱؎ بیمار بھی دو شخصوں کے درمیان چلتا حتی کہ نماز میں آتا ۲؎ آپ نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سنت ہدی سکھائیں اور سنت ہدی میں سے اس مسجد میں نماز پڑھنا بھی ہے جس میں اذان ہو۳؎ اور ایک  روایت میں ہے کہ جس کو یہ پسند ہو کہ کل اﷲ سے مسلمان ہو کر ملے تو وہ ان پانچ نمازوں پر وہاں پابندی کرے جہاں اذان دی جاتی ہے۴؎ کیونکہ اﷲ نے تمہارے نبی کے لیے سنت ہدی مشروع کیں اور یہ نمازیں بھی سنت ہدیٰ سے ہیں ۵؎ اور اگر تم اپنے گھر وں میں  نماز پڑھ لیا کرو جیسے کہ یہ پیچھے رہنے والے گھر میں پڑھ لیتے ہیں تو تم اپنے نبی کی سنت چھوڑ دو گے اور اگر اپنے نبی کی سنت چھوڑو گے تو گمراہ ہوجاؤ گے ۶؎ ایسا کوئی شخص نہیں جو خوب طہارت کرے پھر ان مسجدوں میں سے کسی مسجد کا ارادہ کرے مگر اﷲ اس کے لیئے ہر قدم کے عوض جو ڈالتا ہے ایک نیکی لکھتا ہے اور ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ معاف کرتا ہے ۷؎ ہم نے اپنی جماعت کو دیکھا کہ نماز سے وہ منافق ہی پیچھے رہتا تھا جس کا نفاق معلوم ہو، بعض آدمیوں کو دو شخصوں کے درمیان لایا جاتا تھا حتی کہ صف میں کھڑا کیا جاتا ۸؎(مسلم)

۱؎ اس حدیث نے گزشتہ عتاب کی احادیث کو واضح کردیا کہ وہاں خطاب منافقوں سے تھا  کیونکہ صحابہ نماز کبھی نہ چھوڑتے تھے۔مریض سے وہ بیمار مراد ہے جو کسی طرح مسجد میں نہ پہنچ سکے نہ چل کر نہ کسی کے کندھوں پر جیسا کہ اگلی عبارت سے معلوم ہورہا ہے۔

۲؎ یہ صحابہ کا عزیمت پر عمل ہے کہ جن میں خود چلنے کی طاقت نہ ہوتی وہ دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اس طرح مسجد میں آتے کہ پاؤ ں زمین پر گھسٹتے ہوتے جیسا کہ بعض احادیث میں صراحۃً آیا۔ ایسی حالت میں رخصت ہے کہ گھر پڑھ لے۔سبحان اﷲ!

۳؎ جو کام حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عادت کریمہ کے طور پر کئے وہ سنت زوائد ہیں جیسے بالوں میں کنگھی کرنا،کدو رغبت سے کھانا اور جو کام عبادۃً کئے وہ سنت ہدیٰ ہیں۔سنت ہدیٰ کی دو قسمیں ہیں:مؤکدہ اور غیر مؤکدہ ،جو کام حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیشہ کئے وہ مؤکدہ ہیں اور اگر ان کا حکم بھی دیا وہ واجب اور جو کام کبھی کبھی کئے وہ غیر مؤکدہ ہیں  لہذا جماعت کی نماز اور مسجد میں حاضری،حق یہ ہے کہ دونوں واجب ہیں۔

۴؎ یعنی جہاں جماعت ہوتی ہے کیونکہ اذان جماعت ہی کے لیے ہوا کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسجد اور جماعت کی پابندی کرنے والے کو ان شاءاﷲ ایمان و تقویٰ پر خاتمہ نصیب ہوگا، یہ حدیث ان کے لیئے بڑی بشارت ہے۔

 ۵؎ یعنی پنجگانہ نمازیں مسجد میں باجماعت سنت ہدیٰ میں سے ہیں۔

۶؎ مرقاۃ وغیرہ نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم گھروں میں باجماعت بھی نماز پڑھ لو تب بھی حاضری مسجد کی سنت کے تارک ہو۔ ھٰذَا الْمُتَخَلِّفُ میں کسی خاص منافق کی طرف اشارہ ہے جو تارک جماعت تھا۔ خیال رہے کہ جماعت واجب ہے،اسے یہاں سنت فرمانا اس لئے ہے کہ سنت سے ثابت ہے۔

 ۷؎ یہ خوش خبریاں اس کے لیے ہیں جو گھر سے وضو کرکے مسجد کو جائے اور بہتر یہ ہے کہ درود شریف پڑھتا یا کوئی اور ذکر کرتا ہوا جائے جیسا کہ "باب المساجد"میں عرض کیا جاچکا ہے۔

۸؎ اس کی شرح پہلے گزر گئی، صحابہ میں یہ عمل کیوں نہ ہوتا،انہوں نے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت بیماری کی حالت میں اس طرح مسجد میں آتے دیکھا تھا۔خیال رہے کہ عاشق کو محبوب کی ہر ادا پیاری ہوتی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں کے پیارے ہیں

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن