30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1063 -[12] وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةُ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي حُجْرَتِهَا وَصَلَاتُهَا فِي مَخْدَعِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي بَيْتِهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کی نماز اپنے گھر میں صحن میں نماز سے افضل ہے ۱؎ اور اس کی نماز کوٹھڑی میں،گھر میں نماز سے افضل ہے ۲؎(ابوداؤد) |
۱؎ یہاں حجرے سے مراد صحن ہے کیونکہ اس کی طرف حجرے کے دروازے ہوتے ہیں اس لیے مجازًا اسے حجرہ کہہ دیا گیا۱۲
۲؎ مخدع سامان کی کوٹھڑی کو کہتے ہیں یہ خدع سے ہے،بمعنی چھپانا اور بیت رہنے کی کوٹھڑی کو کہتے ہیں بیتوتت سے ہے،بمعنی شب گزارنا، سامان کی کوٹھڑی دوسری کوٹھڑی کے پیچھے ہوتی ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ چونکہ عورت کے لیے پردہ بہت اعلیٰ ہے لہذا جس قدر پردے میں نماز پڑھے گی اسی قدر بہتر ہوگا۱۲
|
1064 -[13] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ حِبِّي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ امْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ لِلْمَسْجِدِ حَتَّى تَغْتَسِلَ غُسْلَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وروى أَحْمد وَالنَّسَائِيّ نَحوه |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے محبوب ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اس عورت کی نماز قبول نہیں جو مسجد کے لیئے خوشبو لگائے ۱؎ جب کہ جنابت کے غسل کی طرح غسل کرے ۲؎(ابوداؤد)احمد و نسائی نے ا سکی مثل۔ |
۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ عورت کو گھر میں خوشبو لگانا منع نہیں جب کہ وہ اجنبی مردوں کو نہ پہنچے ۱۲
۲؎ یعنی خوشبو اگر سارے بدن پر ملی ہوئی ہے تو اس قدر مل مل کر نہائے جیسے جنابت میں نہاتی ہے تاکہ خوشبو کا اثر بالکل جاتا رہے تب نماز کو آئے۱۲
|
1065 -[14] وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ عَيْنٍ زَانِيَةٌ وَإِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ بِالْمَجْلِسِ فَهِيَ كَذَا وَكَذَا» . يَعْنِي زَانِيَةً.رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَلِأَبِي دَاوُد وَالنَّسَائِيّ نَحوه |
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر آنکھ زنا کار ہے ۱؎ اور عورت جب خوشبو لگا کر مجلس پرگزرے تو وہ ایسی ایسی ہے یعنی زانیہ ہے ۲؎(ترمذی) ابوداؤد اور نسائی کی روایت اسی طرح ہے۔ |
۱؎ یعنی جو آنکھ ارادۃً اجنبی عورت کو دیکھے وہ زانیہ ہے،کیونکہ آنکھ کا زنا نظر بد ہے اور یہ بڑے زنا کا ذریعہ ہے۔
۲؎ کیونکہ وہ اس خوشبو کے ذریعہ لوگوں کو اپنی طرف مائل کرتی ہے،چونکہ اسلام نے زنا کو حرام کیا اس لیے زنا کے اسباب سے روکا،طاعون سے بچنے کے لیے چوہے مار ے جاتے ہیں۔بخار روکنے کے لیے زکام دفع کیا جاتا ہے،فی زمانہ چونکہ زنا عیب نہیں سمجھا جاتا ہے اس لیے اسباب زنا بھی شائع ہیں۱۲
|
1066 -[15] وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا الصُّبْحَ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: «أَشَاهِدٌ فُلَانٌ؟» قَالُوا: لَا. قَالَ: «أَشَاهِدٌ فُلَانٌ؟» قَالُوا: لَا. قَالَ:«إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ أَثْقَلُ الصَّلَوَاتِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ وَلَو تعلمُونَ مَا فيهمَا لأتيتموهما وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الرُّكَبِ وَإِنَّ الصَّفَّ الْأَوَّلَ عَلَى مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِكَةِ وَلَوْ عَلِمْتُمْ مَا فضيلته لابتدرتموه وَإِن صَلَاة الرجل من الرَّجُلِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ وَحْدَهُ وَصَلَاتَهُ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ مَعَ الرَّجُلِ وَمَا كَثُرَ فَهُوَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ».رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں ایک دن ہم کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی، پھر جب سلام پھیرا تو فرمایا کیا فلاں حاضر ہے لوگوں نے عرض کیا نہیں فرمایا کیا فلاں حاضر ہے لوگوں نے عرض کیا نہیں ۱؎ فرمایا یہ دونوں نمازیں منافقوں پر دوسری نمازوں سے بھاری ہیں ۲؎ اور اگر تم جانتے کہ ان میں کیا ثواب ہے تو گھٹنوں پر گھسٹتے ہوئے بھی ان میں پہنچتے ۳؎ اور پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہے ۴؎ اور اگر جانتے کہ اس کی بزرگی کیا ہے تو اس میں جلدی کرتے اور مرد کی نماز ایک مرد کے ساتھ اکیلے نماز سے بہتر ہے اور دو مردوں کے ساتھ نماز ایک مرد کے ساتھ کی نماز سے بہتر ہے جس قدر لوگ زیادہ ہوں اسی قدر خدا کو پیارے ہیں ۵؎(ابوداؤد،نسائی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع