دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

۱؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ لفظ اذان کے بعد کہلوایا جاتا تھا نہ کہ دوران اذان اور یہ امر اباحت کا ہے یعنی گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت ہے بارش کی رات میں گھر میں نماز پڑھ سکتے ہو اجازت ہے مگر مسجد کی حاضری اور جماعت کی شرکت بہت ثواب کا باعث، اسی لیے سرکار صلی اللہ علیہ وسلم  اور مؤذن اور جلیل القدر صحابہ خود تو مسجد میں آجاتے تھے اور اعلان یہ کراتے تھے۔ عزیمت پر عمل ہے اور رخصت کا اعلان۔

1056 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وُضِعَ عَشَاءُ أَحَدِكُمْ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاة فابدؤوا بِالْعَشَاءِ وَلَا يَعْجَلْ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهُ» وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُوضَعُ لَهُ الطَّعَامُ وَتُقَامُ الصَّلَاةُ فَلَا يَأْتِيهَا حَتَّى يَفْرُغُ مِنْهُ وَإِنَّهُ لِيَسْمَعَ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کسی کا کھانا سامنے رکھا جائے اور نماز کی تکبیر کہی جائے تو کھانے سے ابتداء کرو اور کھانے سے فارغ ہونے تک جلدی نہ کرے ۱؎ اور حضرت ابن عمر کے سامنے کھانا رکھا جاتا اور نماز کی تکبیر ہوتی تو کھانے سے بغیر فارغ ہوئے نماز کو نہ آتے حالانکہ آپ امام کی قرأت سنتے ہوتے ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یہ حکم اس صورت میں ہے جب بھوک تیز ہو اور نماز کے وقت میں گنجائش ہو۔امام اعظم فرماتے ہیں کہ میرا کھانا نماز بن جائے یہ اچھا مگر میری نماز کھانا بن جائے یہ برا لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں فرمایا گیا کہ کھانے کے لیے نماز  مت چھوڑو۔

۲؎ یعنی مسجد سے بہت قریب ہوتے حتی کہ قرأت کی آواز کانوں میں پہنچتی۔

1057 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «لَا صَلَاة بِحَضْرَة طَعَام وَلَا هُوَ يدافعه الأخبثان»

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ نہ تو کھانے کی موجودگی میں نماز ہوتی ہے نہ اس حالت میں کہ نمازی کو پیشاب پاخانہ دفع کرنے ہوں ۱؎(مسلم)

۱؎ یہاں کمال نماز کی نفی ہے،یعنی جب بھوک کی تیزی یا پیشاب پاخانہ کی حاجت کی وجہ سے نماز میں دل نہ لگے تو نماز کامل نہیں،قے ،درد وغیرہ تمام عوارض کا یہی حکم ہے حتی کہ اگر دوران نماز یہ عارضے پیش آجائیں تو نماز توڑ دے بعد فراغت دوبارہ پڑھے۔

1058 -[7]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَة» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب نماز کی تکبیر ہو تو سوائے فرائض کے اور کوئی نماز نہیں ۱؎(مسلم)

۱؎ یعنی تکبیر نماز کے بعد جماعت سے متصل دوسری نماز پڑھنا حرام ہے، لہذا فجر کی سنتیں اس حالت میں جماعت سے دور ہٹ کر پڑھ سکتا ہے جب کہ جماعت مل جانے کے امید ہو کیونکہ یہ سنتیں بہت اہم ہیں حتی کہ علماء نے فرمایا کہ بڑا مفتی جسے فتوؤں کا کام بہت رہتا ہو وہ تمام سنتیں چھوڑ سکتا ہے سوائے سنت فجر۔(مرقاۃ) نیز صاحب ترتیب پہلے قضاء نماز پڑھے پھر جماعت سے ملے۔

1059 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اسْتَأْذَنَتِ امْرَأَة أحدكُم إِلَى الْمَسْجِد فَلَا يمْنَعهَا»

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کسی کی بیوی مسجد آنے کی اجازت مانگے تو اسے منع نہ کرے ۱؎(مسلم،بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن