30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں پر جماعت کی نماز بھی واجب ہے اور مسجد کی حاضری بھی،کیونکہ نور مجسم رحمت عالم سراپا اخلاق تارکین جماعت کے گھر جلانے کا ارادہ فرمارہے ہیں۔ مرقاۃ نے فرمایا کہ علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ کسی کو گھر بار جلانے کی سزا نہ دی جائے سوائے تارک جماعت کے کہ سلطان اس کو یہ سزا دے سکتا ہے معلوم ہوا کہ یہ دونوں بڑے اہم ہیں۱۲
۴؎ یعنی ان لوگوں کے نزدیک جماعت اور مسجد کی حاضری دنیوی معمولی نفع کے برابر بھی نہیں کہ تھوڑے نفع کے لیے جاگ بھی لیں سفر بھی کرلیں مشقتیں بھی اٹھالیں مگر جماعت کے لیے مسجد میں آتے جان نکلتی ہے۔ اس حدیث سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو امام بن کر پیسوں اور روٹیوں کے لیے تو نمازی ہوجائیں اور امامت سے الگ ہوکر جماعت تو کیا نماز بھی چھوڑ دیں۱۲
|
1054 -[3] وَعَنْهُ قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ أَعْمَى فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى الْمَسْجِدِ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ فَيُصَلِّيَ فِي بَيْتِهِ فَرَخَّصَ لَهُ فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ فَقَالَ: «هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «فَأَجِبْ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نابینا شخص حاضر ہوا عرض کیا یارسول ا ﷲ میرے پاس کوئی لانے والا نہیں جو مجھے مسجد تک لائے اس نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ انہیں اپنے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دیں حضور نے انہیں اجازت دے دی جب انہوں نے پیٹھ پھیری تو بلایا اور فرمایا کیا تم نماز کی اذان سنتے ہو عرض کیا ہاں فرمایا تو قبول کرو ۱؎(مسلم) |
۱؎ یعنی مؤذن کے بلاوے کو قبول کرو اور مسجد میں حاضر ہوجاؤ۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک کہ جہاں تک اذان کی آواز پہنچے وہاں تک کہ لوگوں کو مسجد میں آنا بہت ضروری ہے ،وہ دور کے لوگ جہاں اذان نہ پہنچی ہو ان کے لیے بھی مسجد آنا بہت بہتر ہے مگر اتنی سختی نہیں،اس حدیث کا یہی مطلب ہے۔"لَاصَلوٰۃَ لِجَارِالْمَسْجِدِ اِلَّافِی الْمَسْجِد"۔دوسرے یہ کہ ہر بیماری عذر نہیں جو جماعت یا مسجد کی حاضری کو معاف کردے بلکہ وہ بیماری عذر ہے جس سے مسجد میں آنا ناممکن یا سخت مشکل ہوجائے،دیکھو نابینا ہیں بیمار ہیں مگر انہیں حاضری کا حکم ہوا،بعض روایات میں ہے کہ عتبان ابن مالک نابینا کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نہ آنے کی اجازت دے دی یا تو ان کا گھر دور ہوگا جہاں اذان کی آواز نہ پہنچتی ہوگی یا ان کا راستہ اتنا خراب ہوگا کہ بغیر ساتھی کے مسجد نہ پہنچ سکیں اور ساتھی کوئی ہوگا نہیں، لہذا احادیث میں تعارض نہیں اذان کی آواز پہنچے سے مراد آج کل کے لاؤڈ اسپیکر کی آواز نہیں یہ تو دو دو میل تک پہنچ جاتی ہے۔ بعض علماء نے ان احادیث کی بناء پر جماعت کو فرض عین مانا مگر یہ صحیح نہیں کیونکہ حدیث ظنی ہے۔
|
1055 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ أَذَّنَ بِالصَّلَاةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ ثُمَّ قَالَ أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ ذَاتُ بَرْدٍ وَمَطَرٍ يَقُولُ: «أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ» |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ انہوں نے ایک ٹھنڈی اور ہوا والی رات میں نماز کی اذان کہی پھر فرمایا کہ گھروں میں نماز پڑھ لو پھر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ٹھنڈی اور بارش والی رات ہوتی تو مؤذن کو حکم دیتے تھے کہ یوں کہے کہ نماز گھروں میں پڑھ لو ۱؎(مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع