30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1051 -[13] وَعَن أبي ذَر قَالَ وَقَدْ صَعِدَ عَلَى دَرَجَةِ الْكَعْبَةِ: مَنْ عَرَفَنِي فَقَدْ عَرَفَنِي وَمَنْ لَمْ يَعْرِفْنِي فَأَنَا جُنْدُبٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ إِلَّا بِمَكَّةَ إِلَّا بِمَكَّةَ إِلَّا بِمَكَّةَ» . رَوَاهُ أَحْمد ورزين |
روایت ہے حضرت ابوذر سے کہ انہوں نے کعبے کے زینے پر چڑھ کر فرمایا جو مجھے پہچانتا ہے وہ پہچانتا ہے اور جو نہیں پہچانتا تو میں جندب ۱؎ ہوں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ فجر کے بعد آفتاب نکلنے تک اور عصر کے بعد سورج ڈوبنے تک نماز نہیں مگر مکہ میں،مگر مکہ میں مگر مکہ میں ۲؎(احمد،رزین) |
۱؎ کیونکہ آپ صداقت میں مشہور تھے۔اس لیے آپ نے پہلے اپنا نام بتایا تاکہ اس حدیث میں شک و شبہ نہ رہے۔
۲؎ یعنی مکہ معظمہ میں ہر وقت نفل جائز،امام ابن ھمام اور ملا علی قاری نے فرمایا کہ یہ حدیث چار وجہ سے مجروح ہے: ایک یہ کہ اس کی اسناد میں حضرت مجاہد اور ابو ذر رضی اللہ عنہما کے درمیان کوئی راوی چھوٹ گیا لہذا یہ حدیث منقطع ہے۔دوسرے یہ کہ ابن موئل راوی ضعیف ہیں۔تیسرے یہ کہ اس میں حمید مولا عفراء ہیں یہ بھی ضعیف ہیں۔چوتھے یہ کہ اس کی اسناد میں اضطراب ہے حتی کہ حضرت ابن حجر شافعی نے بھی تسلیم کیا کہ اس حدیث کی اسناد ضعیف ہے قابل حجت نہیں مگر فرمایا کہ چونکہ اس حدیث کو اس حدیث سے قوت پہنچتی ہے کہ اے عبد مناف کی اولاد حرم میں لوگوں کو کسی وقت نماز و طواف سے منع نہ کرو لہذا یہ حدیث قابل عمل ہوگئی مگر ہم اس حدیث کی شرح میں عرض کرچکے ہیں کہ وہ لوگ دنیاوی اغراض کی خاطربعض وقت حرم شریف کو بند کردیتے ہیں اس لیے انہیں اس بند کرنے سے منع فرمایا اور فرمایا کہ تم لوگوں کو نہ منع کرو،یہ نہ فرمایا کہ انہیں شریعت منع نہیں کرتی۱۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع