30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1048 -[10] عَن عبد الله الصنَابحِي قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ وَمَعَهَا قَرْنُ الشَّيْطَانِ فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَهَا ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ قَارَنَهَا فَإِذا زَالَت فَارقهَا فَإِذَا دَنَتْ لِلْغُرُوبِ قَارَنَهَا فَإِذَا غَرَبَتْ فَارَقَهَا» . وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي تِلْكَ السَّاعَاتِ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأحمد وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت عبداﷲ صنابحی سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سورج یوں طلوع ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ شیطان کے سینگ ہوتے ہیں پھر جب بلند ہوجاتا ہے تو سینگ اس سے الگ ہوجاتے ہیں پھر جب استواء ہوتا ہے تو لگ جاتے ہیں پھر جب ڈھل جاتا ہے تو الگ ہوجاتے ہیں پھر جب ڈوبنے کے قریب ہوتا ہے تو لگ جاتے ہیں جب ڈوب جاتا ہے تو الگ ہوجاتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھڑیوں میں نماز سے منع کیا ۲؎(مالک،احمد،نسائی) |
۱؎ آپ صحابی ہیں،صنابح ابن زاہر قبیلہ کی طرف منسوب ہیں اور ابو عبداﷲ صنابحی تابعی ہیں۔بعض شارحین کو ان دو ناموں میں دھوکا پڑ جاتا ہے لہذا یہ حدیث متصل ہے مرسل نہیں۔
۲؎ اس کی شرح بارہا گزر چکی اس میں نہ جمعہ کا استثناء ہے نہ مکہ معظمہ کا لہذا ہر جگہ ہر دن ان تینوں وقتوں میں نماز ناجائز ہے۔امام اعظم رحمۃ اﷲ علیہ کی یہ قوی دلیل ہے۔
|
1049 -[11] وَعَن أبي بصرة الْغِفَارِيّ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُخَمَّصِ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَقَالَ: «إِنَّ هَذِهِ صَلَاةٌ عُرِضَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَضَيَّعُوهَا فَمَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتَّى يَطْلُعَ الشَّاهِدُ» . وَالشَّاهِد النَّجْم. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوبصرہ غفاری سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخمص میں عصر کی نماز پڑھائی پھر فرمایا کہ یہ نماز تم سے اگلوں پر پیش کی گئی تھی انہوں نے اسے ضائع کردیا ۱؎ تو جو اس پر پابندی کرے گا اس دوہرا ثواب ہوگا ۲؎ اور اس کے بعد تارے نکلنے تک نماز نہیں،شاہد تارا ہے۔(مسلم) |
۱؎ یعنی پچھلی امتوں پر بھی نماز عصر فرض تھی مگر وہ اسے چھوڑ بیٹھے اور عذاب کے مستحق ہوئے تم ان سے عبرت پکڑنا۱۲
۲؎ ایک نمازپڑھنے کا اور دوسرے یہودو نصاریٰ کی مخالفت کا وہ بھی عبادت ہے۱۲
|
1050 -[12] وَعَن مُعَاوِيَة قَالَ: إِنَّكُمْ لَتُصَلُّونَ صَلَاةً لَقَدْ صَحِبْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْنَاهُ يُصَلِّيهِمَا وَلَقَدْ نَهَى عَنْهُمَا يَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْر. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت معاویہ سے فرماتے ہیں تم ایسی نماز پڑھتے ہو کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے لیکن ہم نے آپ کو وہ پڑھتے نہ دیکھا ۱؎ بے شک اس سے منع کیا یعنی عصر کے بعد دو رکعتیں ۲؎(بخاری) |
۱؎ نماز سے مراد دو رکعتیں ہیں کیونکہ یہ کم سے کم نماز ہے،حنفیوں کے ہاں ایک رکعت کو نماز ہی نہیں کہتے۔مطلب یہ ہے کہ اے تابعین تم عصر کے بعد دو نفل پڑھنے لگے ہم نے یہ نفل پڑھتے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہ دیکھا۔خیال رہے کہ یہاں دیکھنے کی نفی ہے،نہ کہ حضور کے پڑھنے کی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم بعد عصر تنہائی میں دو رکعتیں پڑھتے تھے تاکہ صحابہ نہ دیکھیں نہ آپ کی اس میں اقتداء کریں۱۲
۲؎ طحاوی شریف میں ہے کہ اس نماز کی ممانعت میں متواتر المعنی حدیثیں آئیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ رضی اللہ عنھم نے اس پر ہی عمل کیا کہ نہ خود پڑھیں نہ کسی کو پڑھنے کی اجازت دی۔حتی کہ حضرت عمر اس پر سزا دیتے تھے۔فتح القدیر میں ہے کہ عمر فاروق نے اس نفل پڑھنے والوں کو صحابہ رضی اللہ عنھم کی موجودگی میں سزا دی اور کسی نے اس کا انکار نہ کیا لہذا اس کی ممانعت پر اجماع ہوگیا۱۲
|
1051 -[13] وَعَن أبي ذَر قَالَ وَقَدْ صَعِدَ عَلَى دَرَجَةِ الْكَعْبَةِ: مَنْ عَرَفَنِي فَقَدْ عَرَفَنِي وَمَنْ لَمْ يَعْرِفْنِي فَأَنَا جُنْدُبٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ إِلَّا بِمَكَّةَ إِلَّا بِمَكَّةَ إِلَّا بِمَكَّةَ» . رَوَاهُ أَحْمد ورزين |
روایت ہے حضرت ابوذر سے کہ انہوں نے کعبے کے زینے پر چڑھ کر فرمایا جو مجھے پہچانتا ہے وہ پہچانتا ہے اور جو نہیں پہچانتا تو میں جندب ۱؎ ہوں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ فجر کے بعد آفتاب نکلنے تک اور عصر کے بعد سورج ڈوبنے تک نماز نہیں مگر مکہ میں،مگر مکہ میں مگر مکہ میں ۲؎(احمد،رزین) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع