دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

بعد طواف وداع کیا اور نفل طواف نہ پڑھے مدینہ منورہ روانہ ہوگئے،جب دن چڑھ گیا تو وہ نفل جنگل میں پڑھے،یہ حدیث امام صاحب کے مذہب کی بہت تائید کرتی ہے،اگر اس وقت نفل جائز ہوتے تو فاروق اعظم رضی اللہ عنہ بغیر طواف کے نفل پڑھے وہاں سے روانہ نہ ہوتے۱۲

1046 -[8]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الصَّلَاةِ نِصْفَ النَّهَارِ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ إِلَّا يَوْمَ الْجُمُعَةِ. رَوَاهُ الشَّافِعِي

روایت ہےحضر ت ابو ہریرہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوپہری میں سورج ڈھلنے تک نماز سے منع فرمایا سواء جمعہ کے دن کے ۱؎ (شافعی)

 ۱؎ یہ حدیث محدثین کے نزدیک سخت ضعیف ہے حتی کہ ابن حجر جو شافعی مذہب ہیں وہ بھی فرماتے ہیں وَفِی سَنَدِہٖ مَقَالٌ دیکھو مرقاۃ و اشعۃ اللمعات وغیرہ،چنانچہ اس کی اسناد یہ ہے کہ عن ابراھیم عن اسحاق ابن عبداﷲ عن سعید المقبری عن ابی ھریرۃ،یہ ابراہیم ابن محمد ابن یحیی اسلمی ہیں اور یہ محدثین کے نزدیک صحیح نہیں۔(مرقاۃ)اور دوپہر کے وقت مطلقًانماز ممنوع ہونے کی حدیثیں نہایت صحیح ہیں جو پہلے گزرگئیں،لہذا دوپہر کے وقت نہ جمعہ کے دن نماز جائز نہ اور دن یہی مذہب احناف کا ہے،امام شافعی کے ہاں جمعہ کے دن دوپہری میں نماز جائز ہے ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔

1047 -[9]

وَعَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ الصَّلَاة نصف النَّهَار حَتَّى نِصْفَ النَّهَارِ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ إِلَّا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَقَالَ: «إِنَّ جَهَنَّمَ تُسَجَّرُ إِلَّا يَوْمَ الْجُمُعَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ أَبُو الْخَلِيلِ لم يلق أَبَا قَتَادَة

روایت ہے حضرت ابوالخلیل سے  ۱؎ وہ حضرت ابوقتادہ سے راوی فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوپہری میں سورج ڈھلنے تک نماز کو ناپسند کیا سوائے جمعہ کے دن کے اور فرمایا کہ دوزخ جھونکا جاتا ہے سواء جمعہ کے دن کے اور فرمایا ابوالخلیل ابوقتادہ سے نہ ملے ۲؎

۱؎ آپ کا نام صالح ابن ابی مریم ہے،تابعین میں سے ہیں۔

۲؎ یعنی ابوالخلیل اور ابوقتادہ کے درمیان کوئی راوی رہ گیا ہے خبر نہیں کہ فاسق ہے یا عادل،لہذا یہ حدیث منقطع اس سے دلیل نہیں پکڑسکتے اور مذہب احناف بہت قوی ہے کہ جمعہ کے دن بھی دوپہری میں نماز ناجائز ہے اور جمعہ کی نماز زوال سے پہلے نہیں پڑھ سکتے۱۲

الفصل الثالث

تیسری فصل

1048 -[10]

عَن عبد الله الصنَابحِي قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ وَمَعَهَا قَرْنُ الشَّيْطَانِ فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَهَا ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ قَارَنَهَا فَإِذا زَالَت فَارقهَا فَإِذَا دَنَتْ لِلْغُرُوبِ قَارَنَهَا فَإِذَا غَرَبَتْ فَارَقَهَا» . وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي تِلْكَ السَّاعَاتِ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأحمد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت عبداﷲ صنابحی سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سورج یوں طلوع ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ شیطان کے سینگ ہوتے ہیں پھر جب بلند ہوجاتا ہے تو سینگ اس سے الگ ہوجاتے ہیں پھر جب استواء ہوتا ہے تو لگ جاتے ہیں پھر جب ڈھل جاتا ہے تو الگ ہوجاتے ہیں پھر جب ڈوبنے کے قریب ہوتا ہے تو لگ جاتے ہیں جب ڈوب جاتا ہے تو الگ ہوجاتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھڑیوں میں نماز سے منع کیا ۲؎(مالک،احمد،نسائی)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن