دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

۲؎ یعنی دوبارہ پڑھتے ہو ابھی میرے ساتھ جماعت سے پڑھ چکے ہو،پھر دوبارہ اکیلے پڑھے رہے ہو یا یہ مطلب ہے کہ کیا صبح کی دو رکعتوں کے بعد دو نفل بھی پڑھتے ہو،حالانکہ تمہیں خبر ہے کہ اس وقت نفل نہیں پڑھ جاتے۔

۳؎ اس حدیث کی بناء پر امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہم بزرگوں سے سنت فجر کی قضاء آفتاب نکلنے سے پہلے جائز مانی ہے۔امام صاحب کے ہاں صرف سنت فجر کی قضاء کبھی نہیں ہاں اگر سنتیں مع فرضوں کے رہ گئی ہوں تو دوپہر سے پہلے فرضوں کے تابع ہو کر ان کی بھی قضاء ہوجائے گی جیسا کہ شب تعریس کے واقعہ میں ہوا کیونکہ قضاء صرف واجب یا فرض کی ہوسکتی ہے سنتوں کی قضاء اصول شرعی کے خلاف لہذا یہاں ثبوت ہوگیا صرف وہیں قضاء ہوگی،یہ حدیث منقطع ہے متصل نہیں جیسا کہ خود امام ترمذی فرمارہے ہیں،لہذا اس سے استدلال غلط ہے۱۲

۴؎ یعنی محمد ابن ابراہیم اور قیس ابن عمرو کے درمیان کوئی راوی چھوٹ گیا ہے اور خبر نہیں کہ وہ راوی عادل ہے یا فاسق اس لیے یہ حدیث مجہول ہے اور قابل عمل نہیں،نیز اس حدیث میں یہ پتہ نہ لگا کہ وہ صحابی فجر کے بعد کس وقت سنتیں پڑھ رہے تھے،آفتاب نکلنے سے پہلے یا بعد لہذا حدیث گویا مجمل ہے اور ممانعت صراحۃً آچکی ہے کہ صبح کی نماز کے بعد نماز نہیں۔

1045 -[7]

وَعَن جُبَير بن مطعم أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا بَنِي عَبْدَ مَنَافٍ لَا تَمْنَعُوا أَحَدًا طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ وَصَلَّى آيَةً سَاعَةَ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْنَهَارٍ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت جبیر ابن مطعم سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عبدمناف کی اولاد ۱؎کسی کو منع نہ کرو دن و رات میں جس گھڑی چاہے اس گھر کا طواف کرے اور نماز پڑھے ۲؎ (ترمذی،ابوداؤد،نسائی)

۱؎ چونکہ مکہ معظمہ کی سرداری کعبہ کی کلید برداری چاہ زمزم کا انتظام اور حرم شریف کی خدمت اولاد عبدمناف ہی میں تھی اس لیے انہیں خطاب فرما کر یہ فرمایا۱۲

۲؎ اس وقت بعض اوقات حرم شریف بند کردیا جاتا تھا جیسے مسجد نبوی شریف بعد نماز عشاء بند کردی جاتی ہے کہ طواف کعبہ تو ہر وقت جائز ہے۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔چنانچہ اس حدیث کی بنا پر حرم شریف کسی وقت بند نہیں ہوتا۔خیال رہے کہ طواف کعبہ تو ہر وقت جائز ہے لیکن نوافل مکروہ وقتوں میں وہاں بھی منع ہیں کیونکہ ممانعت کی حدیثیں مطلق تھیں جیسا کہ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج ڈوبتے اور بیچ دوپہری میں نماز نہ پڑھو یا فرمایا کہ صبح اور عصر کے بعد نماز نہیں،وہاں مکہ شریف کو مستثنیٰ نہیں کیا امام شافعی وغیرہم اس حدیث کی بنا پر مکہ معظمہ میں ہر وقت نوافل جائز کہتے ہیں مگر یہ استدلال ضعیف ہے کیونکہ حدیث کا مقصد یہ ہے کہ حرم شریف بند نہ کرو،لوگوں کو ہر وقت طواف(نماز پڑھنے دو)ہاں جن وقتوں میں شریعت نے منع کردیا ہے اس وقت لوگ خود نوافل نہ پڑھیں،شریعت کا منع کرنا کچھ اور ہے لوگوں کا بیت اﷲ کو بند کردینا کچھ اور،دیکھو حرم شریف میں نماز پنج گانہ کی جماعت اور نماز جمعہ وعیدین کی جماعت کے وقت لوگوں کو طواف سے بھی روکا جاتا ہے اور نفلوں سے بھی مگر یہ روکنا شریعت کی طرف سے ہےجیسے ہم کسی سبیل والے سے کہیں کہ تم لوگوں کو ہر وقت پانی پینے دو، اس کا مطلب یہ نہیں کہ رمضان میں بے روزوں کو بھی علانیہ دن کے وقت پانی پینے دو۔غرضکہ ممانعت کی حدیث صریح ہے اور اجازت کی غیر صریح،نیز جب ممانعت اور جواز میں تعارض ہو تو ممانعت کو ترجیح ہوتی ہے۔طحاوی شریف میں ہے کہ ایک بار حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے نماز فجر کے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن