دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم

بارگاہ ہوتے تھے مطلع نہیں ہوسکتے تھے،دارقطنی اور ابن عدی نے انہی حضرت ابن مسعود سے روایت کی،فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے بھی نمازیں پڑھی ہیں اور حضرت صدیق اکبر و فاروق کی اقتداء میں بھی جن میں سے کوئی بزرگ سوائے تکبیرتحریمہ کے اور کسی وقت نماز میں ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے،نیز بہت صحابہ کرام سے اسی طرح روایتیں ہیں۔ہم نے رفع یدین نہ کرنے کی پچیس حدیثیں اپنی کتاب "جاءالحق"حصہ دوم میں جمع کی ہیں۔خیال رہے کہ حضرت ابن مسعود صحابہ اور تابعین کے مجمع میں یہ نماز پڑھ کر دکھاتے اور کوئی آپ پر اعتراض نہیں کرتا۔معلوم ہوا کہ وہ تمام حضرات رفع یدین نہ کرنے پرمتفق تھے۔

810 -[21]

وَعَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ: الله أكبر. رَوَاهُ ابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت ابوحمید ساعدی سے  ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب نماز کے لیئے کھڑے ہوتے تو منہ کعبے کو کرتے اور اپنے ہاتھ اٹھاتے۲؎ اور اﷲ اکبر کہتے۔(ابن ماجہ)

۱؎ یہ حدیث بہت اسنادوں سے مروی:جن میں سے ایک اسنادتو وہ ہے جو امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے امام اوازعی کے مقابلے میں پیش کی جسے ہم پہلے بیان کرچکے ہیں"حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ عَنْ عَلْقُمَۃ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ"یہ ایسی قوی اورصحیح اسناد ہے کہ اس میں ضعف کا شائبہ بھی نہیں آسکتا۔دوسری اسناد وہ جو امام ترمذی کی ہے۔وہ فرماتے ہیں"وَحَدِیْثُ اِبْنُ مَسْعُوْدٍ حَسَنٌ"یعنی حضرت ابن مسعود کی حدیث حسن ہے۔تیسری اسناد وہ جو ابوداؤد کو ملی جس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ صحیح نہیں لہذا یہ حدیث ضعیف نہیں،بلکہ ابوداؤدکی اسناد غیرصحیح ہے۔حدیث کا ضعف اور ہے اسناد کا ضعف کچھ اور۔خیال رہے کہ ابوداؤد بھی اس حدیث کو ضعیف نہیں کہتے،بلکہ فرماتے ہیں صحیح نہیں۔صحیح نہ ہونے سے ضعف لازم نہیں آتا اس کے نیچے حسن لعینہ،حسن لغیرہ وغیرہ بھی ہیں،نیز اگر ضعف بھی ہو تو دیگر احادیث سے اسے قوت پہنچے گی۔اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب "جاءالحق"حصہ دوم میں دیکھو۔

۲؎  اس طرح کہ کلائیاں کندھوں تک اور انگوٹھے کان تک پہنچ جاتےجیساکہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ غیر مکی کے لیے عین کعبہ کی طرف منہ کرنا فرض نہیں سمتِ کعبہ کافی ہے کیونکہ یہاں قبلہ فرمایا گیا نہ کہ کعبہ اورقبلہ سمتِ کعبہ کا نام ہے۔

811 -[22]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظّهْر وَفِي مُؤخر الصُّفُوف رجل فَأَسَاءَ الصَّلَاةَ فَلَمَّا سَلَّمَ نَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا فُلَانُ أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ؟ أَلَا تَرَى كَيْفَ تُصَلِّي؟ إِنَّكُمْ تُرَوْنَ أَنَّهُ يَخْفَى عَلَيَّ شَيْءٌ مِمَّا تَصْنَعُونَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى مِنْ خَلْفِي كَمَا أَرَى من بَين يَدي» رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں کہ بنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز ظہر پڑھائی اور آخری صف میں ایک شخص تھا جس نے نماز بری طرح پڑھی ۱؎جب سلام پھیرا تو اسے حضورنے آواز دی کہ اے فلاں کیا تو اﷲسے نہیں ڈرتا کیاتو نہیں دیکھتا کہ کیسے نماز پڑھتا ہے تم یہ سمجھتے ہو کہ مجھ پر تمہارا کوئی عمل چھپا رہتا ہے اﷲ کی قسم! میں پیچھے ایسے ہی دیکھتا ہوں جیسے کہ اپنے آگے دیکھتا ہوں۔(احمد)

۱؎ اس حدیث سے چند مسئلے ثابت ہوئے:ایک یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی آنکھ شریف آگے پیچھے،داہنے بائیں،اندھیرے اجالے میں ہر چیز دیکھ لیتی ہے جیسے ہمارے کان ہرطرف کی آواز بہرحال سن لیتے ہیں ایسے ہی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی آنکھ مبارک۔دوسرے یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی آنکھ پاک کے لیے کوئی چیز آڑ یا حجاب نہیں۔دیکھو حضورصلی اللہ علیہ و سلم امامت کے مصلےٰ پر ہیں اور وہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن