30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
807 -[18] وَعَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخٍ بِمَكَّةَ فَكَبَّرَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّهُ أَحْمَقُ فَقَالَ: ثَكَلَتْكَ أُمُّكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ |
روایت ہے حضرت عکرمہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے ایک بزرگ کے پیچھے مکہ مکرمہ میں نماز پڑھی تو انہوں نے بائیس تکبیریں کہیں ۱؎میں نے حضرت ابن عباس سے کہا کہ یہ بیوقوف ہیں تو فرمایا تمہیں تمہاری ماں روئے یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت ہے ۲؎(بخاری) |
۱؎ نماز چار رکعت تھی اس میں تکبیرتحریمہ اور پہلے التحیات سے اٹھتے وقت کی تکبیریں بھی شامل ہیں،یہ بزرگ ابوہریرہ تھے اور عکرمہ حضرت عبداﷲ ابن عباس کے غلام ہیں ان کا ذکر پہلے آچکا ہے۔
۲؎ یعنی چار رکعت والی نماز میں بائیس تکبیریں کہنا بھی سنت ہے اور امام کو ہرتکبیر اونچی آواز سے کہنا بھی سنت ہے،تم اپنی بیوقوفی سے سنت پرعمل کرنے والے کو بیوقوف بتا رہے ہو۔شایدحضرت عکرمہ نے چیخ کر تکبیر کہنے کو غلط سمجھا ہوگا مگرتعجب ہے کہ آپ ہمیشہ باجماعت نماز پڑھتے تھے پھر ان پر یہ مسئلہ کیسے مخفی رہا۔یہ بات تو ہر نمازی جانتا ہے کہ چار رکعت میں تکبیریں بائیس ہوتی ہیں اور امام ہرتکبیر بآواز بلند کہتا ہے۔خیال رہے کہ حضرت عکرمہ نے لڑکپن کے جوش میں یہ الفاظ بول دیئے،ورنہ کسی کو پیٹھ پیچھے احمق کہنا غیبت ہے،صحابہ کی شان تو بہت بلند ہے اسی لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے آپ کو سخت تنبیہ کی۔
|
808 -[19] وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ مُرْسَلًا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي الصَّلَاة كلما خفض وَرفع فَلم تزل صلَاته حَتَّى لَقِي الله تَعَالَى. رَوَاهُ مَالك |
روایت ہے حضرت علی ابن حسین سے(ارسالًا) ۱؎ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نماز میں جب جھکتے اور اٹھتے تو تکبیر کہتے حضور کی یہی نماز رہی حتی کہ اﷲ تعالٰی سے مل گئے ۲؎(مالک) |
۱؎ آپ کا لقب زین العابدین ہے،کنیت ابوالحسن،اہل بیت اطہار سے ہیں،۵۸ سال کی عمر ہوئی، ۹۴ھ میں وفات،چونکہ آپ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو نہ دیکھ سکے اس لیے تابعین میں سے ہیں اور یہ روایت مرسل ہے۔
۲؎ یعنی یہ عمل شریف منسوخ نہیں۔
|
809 -[20] وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ لَنَا ابْنُ مَسْعُودٍ: أَلا أُصَلِّي بكم صَلَاة رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَصَلَّى وَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً مَعَ تَكْبِيرَةِ الِافْتِتَاحِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ. وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: لَيْسَ هُوَ بِصَحِيح على هَذَا الْمَعْنى |
روایت ہے حضرت علقمہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم سے حضرت ابن مسعود نے فرمایا کیا میں تمہارے سامنے حضور کی نماز نہ پڑھوں تو نماز پڑھی تو اپنے ہاتھ صرف ایک بار ہی یعنی شروع کی تکبیر کے ساتھ اٹھائے ۲؎(ترمذی،نسائی ابوداؤد)ابوداؤدکہتے ہیں کہ یہ حدیث اس معنی پرصحیح نہیں ہے۔ |
۱؎ علقمہ چند ہیں۔یہاں علقمہ ابن قیس ابن مالک مراد ہیں جو مشہور تابعی ہیں اور حضرت ابن مسعود کے ساتھیوں میں سے آپ کی ملاقات خلفاء راشدین سے بھی ہے۔
۲؎ یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ رکوع میں جاتے آتے رفع یدین نہیں۔حضرت ابن مسعود بڑے فقیہ صحابی اور آخر دم تک حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے سفر اور حضر کے ساتھی ہیں،حضور کی نماز پر جیسے آپ مطلع ہوسکتے ہیں ایسے دوسرے وہ صحابہ جو کبھی کبھی حاضر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع