30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
802 -[13] وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ: أَنَّهُ أَبْصَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى كَانَتَا بِحِيَالِ مَنْكِبَيْهِ وحاذى بإبهاميه أُذُنَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: يَرْفَعُ إِبْهَامَيْهِ إِلَى شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ |
روایت ہے حضرت وائل ابن حجر سے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز کو کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے حتی کہ ہاتھ تو کندھوں کے مقابل ہوگئے اور اپنے انگوٹھوں کو کانوں کے مقابل کردیا پھرتکبیر کہی۔ابوداؤد اور اس کی دوسری روایت میں ہے کہ اپنے انگوٹھے کانوں کی گدیوں تک اٹھاتے ۱؎ |
۱؎ الحمدﷲ!یہ وہی چیز ہے جو فقیر نے ابھی عرض کی تھی اور یہ حدیث ان تمام حدیثوں کی شرح ہےجن میں کندھوں یا کانوں تک ہاتھ اٹھانے کا ذکر ہے اس حدیث نے ان دونوں کو جمع کردیا،حنفیوں کا اسی پرعمل ہے۔
|
803 -[14] وَعَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّنَا فَيَأْخُذُ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه |
روایت ہے حصرت قبیصہ ابن ہلب سے ۱؎ وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم ہماری امامت کرتے تھے تو اپنا بایاں ہاتھ دائیں سے پکڑتے تھے ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ) |
۱؎ ہلب کا نام یزید یا سلامہ ابن عدی ہے،یہ صحابی ہیں،آپ کے سر پر بال نہ تھے(گنج)،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنادست پاک ان کے سر پر پھیرا فورًا بال اُگ آئے اس لیے آپ کا لقب ہلب ہوا یعنی بالوں والے۔
۲؎ اس طرح کہ دائیں ہاتھ کی چھنگلی اور انگوٹھے سے بائیں ہاتھ کی کلائی پکڑتے اور داہنے ہاتھ کی تین انگلیاں اس کی کلائی پر رکھتے(ناف کے نیچے)جیسا آج کل عام مسلمان کرتے ہیں۔
|
804 -[15] وَعَن رِفَاعَة بن رَافع قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعِدْ صَلَاتَكَ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» . فَقَالَ: عَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أُصَلِّي؟ قَالَ: «إِذَا تَوَجَّهَتْ إِلَى الْقِبْلَةِ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَقْرَأَ فَإِذَا رَكَعَتْ فَاجْعَلْ رَاحَتَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ وَمَكِّنْ رُكُوعَكَ وَامْدُدْ ظَهْرَكَ فَإِذَا رَفَعْتَ فَأَقِمْ صُلْبَكَ وَارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَرْجِعَ الْعِظَامُ إِلَى مَفَاصِلِهَا فَإِذَا سَجَدْتَ فَمَكِّنِ السُّجُودَ فَإِذَا رَفَعْتَ فَاجْلِسْ عَلَى فَخِذِكَ الْيُسْرَى ثُمَّ اصْنَعْ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَسَجْدَةٍ حَتَّى تَطْمَئِنَّ. هَذَا لَفَظُ» الْمَصَابِيحِ ". وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدُ مَعَ تَغْيِيرٍ يَسِيرٍ وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ مَعْنَاهُ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلتِّرْمِذِيِّ قَالَ: «إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَتَوَضَّأْ كَمَا أَمَرَكَ اللَّهُ بِهِ ثُمَّ تَشَهَّدْ فَأَقِمْ فَإِنْ كَانَ مَعَكَ قُرْآنٌ فَاقْرَأْ وَإِلَّا فَاحْمَدِ اللَّهَ وَكَبِّرْهُ وَهَلله ثمَّ اركع» |
روایت ہے حضرت رفاعہ ابن رافع سے ۱؎ فرماتے ہیں ایک شخص آیا مسجد میں نماز پڑھی ۲؎ پھر حاضر خدمت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو سلام عرض کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اپنی نماز لوٹاؤ۳؎تم نے نماز نہیں پڑھی وہ بولا یارسول اﷲ مجھے سکھا دوکہ نماز کیسے پڑھوں فرمایا جب تم قبلہ کو منہ کرو تو تکبیر کہو ۴؎ پھر سورۂ فاتحہ اور جو پڑھنا اﷲ چاہے وہ پڑھ لو۵؎ پھر جب رکوع کرو تو اپنی ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھو اور اپنے رکوع کو مضبوطی سے کرو ۶؎ اور اپنی پشت درازکرو جب اپنے سر کو اٹھاؤ تو اپنی پیٹھ سیدھی کرو حتی کہ ہڈیاں اپنے جوڑوں تک لوٹ جائیں ۷؎ پھر جب سجدہ کرو تو سجدہ مضبوطی سے کرو۸؎ جب اٹھو تو اپنی بائیں ران پر بیٹھو ۹؎ پھر رکوع اور سجدہ میں یونہی کرو حتی کہ مطمئن ہوجاؤ یہ مصابیح کے لفظ ہیں اور ابو داؤد نے تھوڑے فرق سے روایت کیا اور ترمذی و نسائی نے اس کے معنی روایت کیے۔ترمذی کی روایت میں ہے کہ جب تم نماز کے لیے اٹھو تو یونہی وضو کرو جیسے تمہیں اﷲ نے اس کا حکم دیا پھر کلمۂ شہادت پڑھو ۱۰؎ پھرتکبیر کہو پھر اگر تمہیں کچھ قرآن یاد ہو تو اسے پڑھ لوورنہ اﷲ کی حمداس کی تکبیر اس کی تہلیل کرو ۱۱؎پھر رکوع کرو۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع